ایران کے جوہری تنازعے پرکسی ڈیل کا امکان نہیں:جان کیری

جنیوا میں 6 بڑی طاقتوں اورایران کے وزرائے خارجہ کی جوہری مذاکرات میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر ایران کے جوہری تنازعے پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔

انھوں نے یہ بات جمعہ کو جنیوا پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے جہاں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے نمائندے جوہری تنازعے پر ممکنہ ڈیل کی تفصیل پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف اور مذاکرات میں چھے بڑی طاقتوں کی نمائندگی کرنے والی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن سے ملاقات کرنے والے تھے۔

مس آشٹن کے ترجمان مائیکل من نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے ایرانیوں سے رابطے کیے ہیں۔ہم بہت اچھی پیش رفت کررہے ہیں۔یہ ایک بہت ہی سنجیدہ عمل ہے''۔

جان کیری کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار دوسرے مستقل رکن ممالک برطانیہ ،فرانس،روس اور چین اور جرمنی کے وزرائے خارجہ بھی جنیوا میں ہیں۔ان وزرائے خارجہ کی اچانک آمد پر یہ قیاس آرائی کی گئی ہے کہ ایران کے جوہری تنازعے پر ڈیل کا اعلان یقینی ہے لیکن حکام نے خبردار کیا ہے کہ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی ہے۔

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے کہا ہے کہ ''مذاکرات میں پیش رفت تو ہوئی ہے لیکن کسی بات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے''۔ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ''ہم جنیوا میں ان مذاکرات کے اختتام سے قبل کسی ڈیل تک پہنچ سکتے ہیں''۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر مذاکرات جمعرات کو شروع ہوئے تھے اور یہ آج جمعہ کو ختم ہورہے ہیں جس کے بعد توقع ہے کہ جانبین ایک مشترکہ بیان جاری کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران مجوزہ ڈیل کے تحت یورینیم کو 20 فی صد کی سطح تک افزودہ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا اور بھاری پن کے پلوٹونیم ری ایکٹر پر جاری کام بھی بند کردے گا۔اس کے بدلے میں اس کے خلاف عاید کردہ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی اور مغربی ممالک میں اس کے منجمد اثاثوں کو بحال کردیا جائے گا۔

اسرائیل ایران پر عاید عالمی پابندیوں کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کررہا ہے۔انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایسے کسی عالمی معاہدے کا پابند نہیں ہوگا اوراس کو یک طرفہ اقدام کا حق حاصل ہے۔انھوں نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کی مجوزہ ڈیل کو ایک تاریخی غلطی قراردیا ہے۔

مغربی طاقتوں اور اسرائیل کو ایران پرشُبہ ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس کے ذریعے جوہری توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں