فلسطین کی مخالفت: امریکا، اسرائیل کا یونیسکو میں ووٹ کا حق معطل

فنڈز روکنے پر ووٹ کے حق سے محروم ممالک کے ناموں کا ہفتے کواعلان ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے فلسطینی رکنیت کی مخالفت میں احتجاج کے طور پر ادارے کے فنڈز روکنے کے دوسال کے بعد امریکا اور اسرائیل کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا ہے۔

یونیسکو کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ان دونوں ممالک کو جمعہ کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق گیارہ بجے تک واجبات کی عدم ادائی کی سرکاری طور پر وضاحت پیش کرنے اور واجبات ادا کرنے کے لیے کہا گیا تھا لیکن دونوں ممالک اس ڈیڈلائن تک وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے بعد ان کا یونیسکو میں ووٹ کا حق معطل کر دیا گیا ہے۔

یونیسکو میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ کلین سے جب ادارے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے صرف اتنا کہا کہ ''امریکا بہتر مستقبل کی تشکیل میں یونیسکو کو ایک اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔ہم ہر ممکن طریقے سے اس کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے''۔

یونیسکو نے جن ممالک کو ووٹ کے حق سے محروم کیا ہے،ان کے ناموں کا اعلان ادارے کی ڈائریکٹر جنرل ایرنا بوکوفا ہفتے کے روز اجلاس کے بعد کریں گی۔ادارے پندرہ روزہ جنرل کانفرنس گذشتہ منگل کو شروع ہوئی تھی۔ہر دوسال کے بعد ہونے والی اس کانفرنس میں ادارے کے تمام رکن ممالک کے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔

یادرہے کہ یونیسکو کی جنرل اسمبلی نے اکتوبر2011ء میں فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت دی تھی اور ادارے کے ایک سو پچانوے میں سے ایک سو سات ارکان نے فلسطینی رکنیت کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ صرف چودہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔امریکا اور اسرائیل نے فلسطین کو یونیسکو میں مکمل رکنیت دینے کی شدید مخالفت کی تھی۔

امریکا نے یونیسکو میں فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت ملنے کے فوری بعد ادارے کو دی جانے والی چوبیس کروڑ ڈالرز کی سالانہ امداد بند کردی تھی۔اسرائیل نے سزا کے طور پر فلسطینی اتھارٹی کی محصولات کی مد میں قریباً دس کروڑ ڈالرز کی رقم روک لی تھی۔اسرائیل فلسطینیوں کی جانب سے یہ رقم کسٹم ڈیوٹیوں اور دیگر محصولات کی مد میں اکٹھی کرتا ہے اور پھر اسے مغربی کنارے میں صدر محمود عباس کے تحت حکومت کے حوالے کرتا ہے۔

امریکا کے بعد اسرائیل نے بھی اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو میں فلسطینی ریاست کی مکمل رکنیت کے بعد اس عالمی ادارے کے لیے چھے کروڑ ڈالرز سالانہ کی امداد روک لی تھی اور کینیڈا نے بھی ان دونوں ممالک کی پیروی کرتے ہوئے یونیسکو کے فنڈز روک لیے تھے۔اس طرح یہ عالمی ادارہ اپنے کل سالانہ بجٹ کے پچیس فی صد فنڈز سے محروم ہوگیا تھا۔اس کے بعد اس نے اپنے بعض پروگرام معطل کردیے تھے اوراخراجات جاریہ میں کمی کے لیے بعض اقدامات کیے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا یونیسکو کو اس کے کل سالانہ بجٹ کا بائیس فی صد مہیا کرتا تھا۔امریکی کانگریس نے 1990ء کے عشرے میں ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت اقوام متحدہ کا جو بھی ادارہ فلسطین کو اسرائیل کے ساتھ حتمی امن معاہدے کے بغیر مکمل رکنیت دے گا تو وہ امریکا کی جانب سے ملنے والی مالی امداد سے خود بخود محروم ہوجائے گا۔

یونیسکو میں امریکا اور اسرائیل کا ووٹ دینے کا حق ایسے وقت میں سلب کیا گیا ہے، جب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے لیکن جولائی میں تین سال کے تعطل کے بعد بحال ہونے والے ان مذاکرات میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اگلے روز اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو فلسطینی اس کے خلاف تیسری انتفاضہ تحریک شروع کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں