.

امن بحال کرنے کوششیں روکی نہیں جا سکتیں: صومالی صدر

دارالحکومت میں ایک اور دھماکے کی کوشش ناکام بنا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے صدر نے اعلان کیا ہےکہ بحالی امن کیلیے جاری کوششوں کو نہیں روکیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں القاعدہ سے منسلک گروپ الشباب کی طرف سے کیے گئے کار بم دھماکے کے بعد کیا ہے۔

الشباب نے یہ دھماکہ جمعہ کی شام کو موغا دیشو میں ایک اہم ہوٹل کے باہر کیا تھا۔ اس کار بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پندرہ زخمی ہو گئے تھے۔

صومالی صدر حسن شیخ محمد نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ '' اس دھماکے کا مقصد شہریوں کو خوف زدہ کرنا تھا تاکہ امن کیلیے کی جانے والی پیش رفت کو روکا جا سکے، لیکن الشباب کبھی بھی ہمیں ترقی، استحکام اور امن کے راستے سے نہیں روک سکتا۔''

صومالیہ کے سرکاری حکام نے اس کار بم دھماکے میں صومالیہ کے ایک اعلی سفارت کار عبدالقدیر علی کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ مرحوم لندن میں صومالیہ کے قائم مقام سفیر رہ چکے تھے۔

اسی شام صومالیہ کے سکیورٹی اداروں نے ایک اور دھماکے کی کوشش جو کہ ہوٹل کے اندردھماکہ کرنے کیلیے کی جا رہی تھی ناکام بنا دی ہے۔