.

ایرانی جوہری پروگرام، فوری معاہدے کا یقین نہیں: برطانیہ

اسرائیلی سلامتی سے متعلق خدشات کو مدنظر رکھیں گے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے ایرانی جوہری پروگرام پر جاری جنیوا مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا اظہار کیا ہے۔ جنیوا میں سائیڈ لائینز پر بات کرتے ہو ئے دونوں وزرائے خارجہ کا کہنا تھا اگرچہ مذاکرات مثبت سمت میں ہیں لیکن ابھی یقینی نتائج کی امید نہیں ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے مذاکرات میں وقفے کے دوران رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا '' جنیوا مذاکرات نے کافی پیش رفت کی ہے اور یہ پیش رفت جاری ہے، لیکن ابھی کئی اہم نکات کا طے کیا جانا باقی ہے۔''

انہوں نے کہا '' اس حوالے سے ایک تحرک پیدا ہو گیا ہے لیکن جہاں تک ایک معاہدے کا تعلق ہے اس پر پوری اور سنجیدہ توجہ ہے، اس لیے ہمیں اس لمحے کو پکڑنے کیلیے سب کچھ کرنا ہو گا جو ایک معاہدے کے لیے موقع فراہم کرے گا۔''

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا'' وہ ابھی اس بارے میں پر یقین نہیں کہ معاہدہ ممکن ہو گیا ہے اور یہ معاہدہ آج ہفتے کے روز ہی ہو جائے گا، اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ کہ آج شام معاہدہ ہو جائے گا۔''

ولیم ہیگ کا یہ بھی کہنا تھا '' کسی معاہدے تک پہنچنے کیلیے تمام فریقوں کو اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنا ہو گی۔''

اس موقع پر فرانس کے وزیر خارجہ لاورینٹ فیبئِس نے بھی اسی طرح کے خیالات ظاہر کرتے ہوئے اسرائیل کے تحفظات کو بھی مد نظر رکھنے پر توجہ دلاتے ہوئے کہا '' ابھی ایک ابتدائی مسودہ ہے، جسے ہم قبول نہیں کر سکتے، جیسا کہ میں نے کہا ہے مجھے بھروسہ نہیں ہے کہ ہم اسے آج تکمیل تک پہنچا سکیں گے۔''

یورینیم کی افزودگی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ''مجموعی طور پر افزودہ یورینیم کا ذخیرہ 20 فیصد ہے، جو کہ کافی زیادہ ہے، سوال یہ ہے کہ اسے پانچ فیصد تک نیچے کیسے لایا جا سکتا ہے جو کہ کم خطرناک ہو سکتا ہے۔''

واضح رہے کہ مغربی طاقتوں کو شبہ ہے کہ ایران اپنے افزودہ کیے ہوئے یورینیم سے جوہری بم بنا سکتا ہے۔ اس خدشے کی ایران تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلیے ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے مزید کہا '' یہ ضروری ہے کہ اسرائیلی سلامتی سے متعلق خدشات کو سامنے رکھا جائے اور خطے کے دیگر ملکوں کے تحفظات کو بھی۔''