.

مراکش:جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف بل تیار

قبیح فعل کے مجرموں کو 2 ماہ سے 5سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش کی پارلیمان کے ارکان نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک بل کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کے تحت اس غیر اخلاقی حرکت کے مرتکب شخص کو دوماہ سے پانچ سال تک جیل بھیجا جاسکے گا۔

ایک مقامی عربی روزنامے المساعی کی اطلاع کے مطابق اس بل کو جلد بحث اور منظوری کے لیے پارلیمان میں پیش کیا جارہا ہے۔اس کے تحت کسی بھی عوامی مقام پر جنسی نوعیت کی پیش قدمی ،اس طرح کا کوئی کلمہ کہنے ،اشارے کنائے میں بات کہنے یا اس فعل کی دعوت دینے والا مجرم قرار پائے گا۔

عدالت ایسے مجرموں کو دوماہ سے دوسال تک قید اور ایک ہزار سے تین ہزار درہم تک جرمانے کی سزا سنا سکے گی۔تاہم جنسی ہراسیت کا نشانہ بننے والا یا بننے والی مجرم کے کام کی جگہ کی ساتھی ہوئی تو پھر اس کو پانچ سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

انسداد ہراسیت کے اس مجوزہ قانون میں خاتون اور مرد کی کوئی تخصیص نہیں کی گئِی اور انھیں امکانی متاثرین تصور کیا گیا ہے۔مراکشی حکومت نے جمعرات کو اپنے اجلاس میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وزیراعظم عبدالالہ بن قیران کی سربراہی میں قائم کمیشن اس بل پر نظرثانی کرے گا اور پھر اس کو کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائےگا۔پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے اگر اس کی منظوری دے دی تو یہ قانون بن جائے گا۔

واضح رہے کہ مراکش میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن اس مسلم ملک میں مردوں کے حقوق کی علمبردار ایک تنظیم مراکشی نیٹ ورک برائے حقوق مرداں کا کہنا ہے کہ مردوں کو بھی جنسی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔

اس تنظیم کے صدر عبدالفتاح بہجاجی نے کچھ عرصہ قبل العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''عورتوں کی جانب سے مردوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد مردوں کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات کے مقابلے میں تھوڑی ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ یہ مسئلہ موجود نہیں ہے''۔

ان کے بہ قول:''خواتین کی جانب سے مردوں کو ہراساں کرنے کے واقعات عام طور پر کام کی ایسی جگہوں پر رونما ہوتے ہیں جہاں خواتین زیادہ سنئیر عہدے پر ہوتی ہیں یا پھر ڈرائیوروں اور خادموں کے ساتھ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ اگر مرد عورت کا کہا نہ مانے تو اسے نوکری سے نکال دیا جاتا ہے''۔

ماہرسماجیات عبداللطیف حباشی کا کہناتھا کہ'' مراکشی معاشرے میں خواتین کی جانب سے مردوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کا ان بہت سی تبدیلیوں سے تعلق ہے ،جو رونما ہورہی ہیں۔مردوں اور خواتین کے درمیان تعلق سے متعلق روایتی قوانین تبدیل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر اختیارات کے توازن ، جنس اور جنسی شناخت کے حوالے سے قوانین تبدیل ہورہے ہیں جس کی وجہ سے نئے نئے مسائل جنم لے رہے ہیں اورعورتیں مردوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھ رہی ہیں اور انھیں ہراساں کررہی ہیں''۔

حباشی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس قسم کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تحقیق ہونی چاہیے۔ اس سے ہمیں یہ پتا چلے گا کہ معاشرے میں کیا رونما ہورہاہے اور اس کے بعد مسائل کے حل بھی تجویز کیے جاسکیں گے۔وگرنہ عورتوں کی جانب سے مردوں کو ہراساں کرنے کے واقعات انفرادی ہی قراردیے جاتے رہیں گے''۔