.

مصر اور روس کے درمیان اسلحہ کی"غیرمعمولی" ڈیل کی اطلاعات

وزراء خارجہ ودفاع کی سطح پر دو طرفہ ملاقات پیش آئند ہفتے ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور مصر کے درمیان ایک غیرمعمولی نوعیت کے دفاعی معاہدے پر دستخط کی تیاریوں کی خبریں آئی ہیں۔ ان خبروں کے جلو میں روسی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے وزراء وخارجہ ودفاع آئندہ ہفتے قاہرہ میں ملاقات کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاش فیٹچ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور وزیر دفاع سیرگئی چویگو 13 نومبر کو قاہرہ پہنچیں گے جہاں وہ اپنے ہم منصب وزرا نبیل فہمی اور جنرل عبدالفتاح السیسی سے مفصل ملاقات کریں گے۔

روسی ترجمان نے بتایا کہ وزراء خارجہ و دفاع 13 اور 14 نومبر مصری حکام سے بات چیت کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں اہم نوعیت کے سمجھوتوں پر دستخط کا بھی امکان ہے تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا وہ اہم نوعیت کے سمجھوتے کون کون سے ہو سکتے ہیں۔

مسٹر لوکش فٹیچ نے کہا کہ ماسکو قاہرہ کے ساتھ باہمی احترام اور دوستی کے رشتے کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے سیاسی، سماجی اور اقتصادی شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ دونوں ملک ماضی میں بھی ایک دوسرے کے قریب رہے ہیں اور مستقبل قریب میں دوستی کے اس ناطے کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ستمبر میں مصر کے عبوری وزیر خارجہ نبیل فہمی نے اپنے ایک بیان میں بھی روس کے ساتھ بہتر تعلقات کے آغاز کا عندیہ دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قاہرہ، ماسکو کے ساتھ دوستانہ تعلقات بحال کرنے کا خواہاں ہے۔

درایں اثناء روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی" نوفوسٹی" نے اپنی ایک رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ وزرائے خارجہ ودفاع کا دورہ مصر نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس دورے کے دوران دونوں ملک اسلحہ کی ایک بڑی ڈیل پر دستخط کرنے والے ہیں۔

روسی اسلحہ کی درآمد و برآمدات کی سب سے بڑی کمپنی"رشیا اوبورن ایکسپورٹ" کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ماسکو قاہرہ کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصرجس نوعیت کا اسلحہ چاہے خرید سکتا ہے مسئلہ صرف قیمت کی ادائی کا ہے، اسلحہ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔