.

معزول صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں تصادم، دو جاں بحق

تصادم قاہرہ، الجیزہ اور ڈیلٹا نیل کی متعدد گورنریوں میں رونما ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ قاہرہ میں ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے جمعہ کے روز احتجاجی مظاہروں کی کال دے رکھی تھی۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' نے ایمرجنسی سروس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دارلحکومت قاہرہ کے جنوبی ڈسٹرکٹ الجیزہ میں مرسی نواز مظاہرین اور ان کے مخالفین کے درمیان ہونے والے تصادم میں بارہ سالہ لڑکا اور ایک نامعلوم مصری شہری جاں بحق ہو گئے۔

مصری وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ تصادم میں فریقین نے آتشین اسلحہ کے بے دریغ استعمال کیا۔ قانون نافذ کرنے والوں اداروں نے مسلح مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے کارروائی کی، جس کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

وزارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ جمعہ کے روز مصر کے طول و عرض میں ہونے والے ڈاکٹر مرسی کی حمایت میں مظاہروں کے دوران کم سے کم بیس افراد زخمی ہوئے۔ ان میں زیادہ تر افراد شمالی قاہرہ میں واقع ڈیلٹا نیل گورنریوں میں ہونے والے تصادم میں ہلاک ہوئے۔

سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قاہرہ اور اسکندریہ میں سابق صدر مرسی اور ان کے مخالفین کے درمیان تصادم کو منشتر کرنے کے لئے پولیس نے اشک آور گیس کے گولے فائر کئے۔ یاد رہے ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں تین جون سے معزولی کے بعد سے ان کے حامی تقریبا قاہرہ اور اسنکدریہ میں روزانہ بالخصوص جمعہ کے روز احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی گذشتہ چار مہینوں سے سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سخت آپریشن کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس دوران ایک ہزار افراد جاں بحق جبکہ دو ہزار کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں اخوان المسلمون کی سرکردہ قیادت بھی شامل ہے۔