.

کینیڈین کم سن سپاہی، گوانتانامو جیل کا اذیت ناک سلوک چیلنج

پندرہ سال کی عمر میں گرفتار کیے گئے عمرکا عدالت سے رجوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کے شہری عمر خادر المعروف کمسن سپاہی نے خود کو دہشت گرد قرار دیے جانے کو امریکی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ عمر خادر سب سے کم عمر قیدی کے طور پر دس سال تک امریکی جیل گوانتا نامو بے میں اسیر رہ چکا ہے۔

ٹورنٹو میں پیدا ہونے والے عمر خادر کو امریکی فورسز نے اس وقت گرفتار کیا جب اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔

امریکی فوج کی طرف سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ'' اس نے ایک ہینڈ گرینیڈ سے حملہ کر کے افغانستان میں ایک امریکی فوجی ہلاک کر دیا تھا۔ نیز امریکی فوجیوں کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھائی تھیں۔''

عمر خادر کے وکیل نے موقف اختیار کیا ہے کہ کہ اسے غیر اخلاقی گالیاں دی گئیں، زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں، کتوں کے بھونکنے کی آوازوں سے ڈرایا گیا، نیز راتوں کو جگا کر اذیت دی گئی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکا کی طرف سے اس کم سن کو ایک بالغ جنگی مجرم کے طور پر رکھنے کا حکم دیا گیا، اسے قید تنہائی میں بھی رکھا گیا ۔جو بجائے خود قانون کی خلاف ورزی ہے۔

دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ امریکی قانون کے مطابق کم سن ملزموں کوالگ رکھا جاتا ہے، جبکہ عمر کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا۔ حتی کہ ایک زخمی کم سن پر پہلے سے گھڑی گھڑائی کہانی تھوپ دی گئی۔

دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمر خادر کو ایک مرتبہ انسانی جھاڑن کے طور پر تشدد اور بے توقیری کا نشانہ بنایا گیا گئی گھنٹوں کیلیے اس کے ہاتھ اور پاوں پیچھے کو موڑ کر باندھ دیے گئے، اور اس پر پیشاب کیا گیا۔