.

یمن کے سابق صدر صالح کی دوبارہ صدارتی لڑنے کی خبریں

علی عبداللہ صالح کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے: ذرائع پیپلز کانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی دارلحکومت صنعاء میں باوثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سابق فوجی آمر علی عبداللہ صالح اگلے برس ہونے والے صدارتی انتخاب لڑنے کے خواہش مند ہیں۔

جنرل پیپلز کانفرنس کے ایک سرکردہ نے بتایا کہ سابق یمن کی سیاست میں اب بھی سرگرم ہیں کیونکہ وہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کی قیادت کر رہے ہیں۔ نیز خلیجی ملکوں کے جس معاہدے کے تحت انہوں نے اقتدار سے علاحدگی اختیار کی تھی اس کی کوئی ایسی شق نہیں کہ جو انہیں پیش آئندہ جہوری اور خفیہ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والا صدارتی انتخاب دوبارہ لڑنے سے منع کرے۔

علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانفرنس کے اہم رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ان کی جماعت اپنے آئندہ اجلاس میں فروری 2014ء کے دوران ہونے والے صدارتی انتخاب کے لئے اپنے امیدوار کا نام فائنل کرے گی۔ اجلاس میں اس بات کا فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ موجودہ حکمران جماعت کی قیادت علی عبداللہ صالح کریں گے یا پھر یہ ذمہ داری موجودہ صدر عبد ربہ ہادی منصور ادا کریں گے۔

پیپلز کانفرنس کے رہنما کے مطابق اس بات کا قوی امکان ہے کہ موجودہ صدر عبد ربہ منصور ہادی تنظیم کی قیادت جاری رکھیں اور اس کے بدلے میں وہ علی عبداللہ صالح کو پارٹی کی طرف آئندہ صدارتی امیدوار کا ٹکٹ دینے کی حمایت کریں۔

انہوں نے کہا کہ یمن کی سیاسی، معاشی، سیکیورٹی صورتحال سمیت ملک کو درپیش بجلی کے بحران تمام محاذوں پر ملک کو شدید بڑے چیلنج درپیش ہیں تاہم اس کے باوجود علی عبداللہ صالح کی عوامی مقبولیت کا گراف روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ماضی قریب میں علی عبداللہ اور موجودہ صدر منصور ہادی کے درمیان ملک کی سب سے بڑی جماعت کی قیادت کے لئے رسہ کشی دیکھنے میں آئی ہے۔

سابق صدر علی عبداللہ صالح اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے موجودہ صدر منصور ہادی پر الزام عاید کر چکے ہیں کہ وہ یمن اصلاحی گروپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اخوان المسلمون کو خوش کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے حکمران جماعت پیپلز کانفرنس کے مفادات پر سودی بازی کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں اخوان المسلمون کی سوچ کی نمائندہ اس جماعت کو ہادی منصور کبھی بھی راضی نہیں کر پائیں گے چاہئے میں [علی عبداللہ صالح] گھر ہی بیٹھ جائے۔ پھر بھی اخوان، ہادی کے لئے دسیوں مشکلات پیدا کریں گے۔

ماضی میں عبد ربہ منصور ہادی ضمنی طور پر اپنے پیش رو علی عبداللہ صالح اور ان کے مقرب سیاسی اور فوجی حلقوں کو ملک میں تیل کی پائپ لائن اور بجلی ٹرانسمنشنز لائنوں پر حملوں کا الزام عاید کرتے چلے آئے ہیں۔