.

آئینی وکالت، فوجداری اور دیوانی قوانین سعودی کابینہ میں پیش کرنےکا فیصلہ

سعودی فرمانروا کی قانونی ضابطوں پر بحث کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم پر آئینی و شرعی وکالت، دیوانی اور فوجداری مقدمات سے متعلق وضع کردہ نیا آئینی ضابطہ قانون کابینہ میں زیربحث لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ کل سوموار کے روز ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیرصدارت اجلاس میں ان امور پر بحث کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عدلیہ کو زیادہ با اختیار اور آزاد بنانے کے لیے شاہ عبداللہ کے اقدامات میں سے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ "آئینی وکالت" یعنی فریق مقدمہ کے بیانات، دیوانی اور فوج داری مقدمات کا وضع کردہ نیا آئینی ضابطہ اخلاق عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ نئے مجوزہ قوانین کی کابینہ سے منظوری کے بعد ملک میں خصوصی عدالتیں قائم کرنے اور مقدمات کی براہ راست سماعت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی ہدایت پرعدالتی حکام اور آئینی اداروں کی جانب سے پانچ سال قبل نئے فوجداری اور دیوانی قوانین کی تیاری پر کام شروع ہوا تھا۔ ان میں بعض قوانین پر کابینہ اور مجلس شوریٰ غور کر چکی ہے۔ ان پر حتمی نظر ڈالنے کے لیے کل پیر کے روز کے اجلاس میں انہیں دوبارہ بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ سنہ 1992ء کے مجریہ ایکٹ کے تحت عدلیہ سے متعلق کسی بھی مسودہ قانون کی منظوری کے لیے مجلس شوریٰ کے ساتھ کابینہ کی رائے کوبھی ضروری قراردیا گیا ہے۔