.

امریکا کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاربنانے سے روکنا ہے: جان کیری

جنیوا مذاکرات میں ڈیل نہ ہونے کے باوجود نمایاں پیش رفت ہوئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے واضح کیا ہے کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے اور یہی ہمارا مقصد ہے۔

جان کیری نے اتوار کو جنیوا میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان بے نتیجہ مذاکرات کے بعد کہا کہ ''ہم جنیوا اس مقصد کے لیے آئے تھے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکا جائے''۔

فریقین کے درمیان تین روز تک مذاکرات میں کوئی سمجھوتا تو نہیں پاسکا لیکن جان کیری نے دعویٰ کیا ہے کہ مذاکرات کاروں نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ میرے ذہن میں اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کہ ہم جب جنیوا سے واپس روانہ ہورہے ہیں تو ہم ایک ڈیل کے قریب قریب پہنچ چکے ہیں۔

جان کیری نے اپنا مشرق وسطیٰ کا دورہ مختصر کرکے ایران کے جوہری تنازعے پر مذاکرات میں شرکت کی ہے۔انھوں نے یہ بات بالاصرار کہی کہ کوئی سمجھوتا طے نہ پانے پر وہ حوصلہ شکن نہیں ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ ''ایک طویل عرصے تک ایک دوسرے کے خلاف محاذآراء رہنے والے ممالک کے درمیان اعتماد بحال ہونے میں ابھی وقت لگے گا''۔وہ ایران اور امریکا کے درمیان ؁ 1979ء سے منقطع سفارتی تعلقات کا حوالہ دے رہے تھے۔

امریکی وزیرخارجہ کے اس بیان سے چندے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے کہا ہے کہ اب 20 نومبر کو فریقین کے درمیان دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جوادظریف نے بھی اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان آیندہ اجلاس میں کوئی سمجھوتا طے پاجائے گا۔درایں اثناء ایرانی صدر حسن روحانی نے عالمی طاقتوں پر زوردیا ہے کہ وہ جوہری تنازعے پر معاہدے تک پہنچے کے لیے اس غیر معمولی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔