.

فلپائن میں سمندری طوفان سے ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار

منیلا میں تباہی مچانے کے بعد 'ہیان' کا رخ ویتنام کی طرف ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن میں سمندری طوفان 'ہیان' نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ حکومت نے اب تک صرف سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

پولیس اور صوبائی حکام نے اتوار کو صوبہ لیاتی میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد اعداد و شمار جاری کیے اور ان کے بقول بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ہلاکتیں لوگوں کے پانی میں ڈوبنے اور عمارتیں منہدم ہونے سے ہوئیں۔

ہیان نامی شدید ترین سمندری طوفان جمعہ کو فلپائن سے ٹکرایا تھا اور اس دوران 315 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائوں نے ہر طرف تباہی مچا دی۔ فلپائن کے سیکرٹری داخلہ مار روزاس نے کہا کہ صوبہ لیاتی کے دارالحکومت ٹیکلوبان میں ہونے والی تباہی ناقابل بیان ہے۔ " تباہی کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں۔ یہ انتہائی خوفناک ہے، یہ شدید ترین انسانی المیہ ہے۔"

یہ طوفان اب کھلے سمندری پانیوں میں ہے اور اس کا رخ ویتنام کی طرف ہے اور امکان ہے کہ یہ اتوار یا پیر کو اس کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔ ویتنام میں حکام نے ساحلی علاقوں سے لاکھوں افراد کو محفوظ پر منتقل کر دیا۔ ان علاقوں میں طوفان کی آمد سے قبل ہی تیز سمندری ہوائیں چل رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار کے مطابق تباہی کا اندازہ لگانے کے لیے فلپائن کے متاثرہ علاقے میں ٹیمیں پہنچا دی گئی ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے فلپائن سے اظہار افسوس کرتے ہوئے " انسانی جانوں کے شدید نقصان" پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

امریکا یہاں ہونے والی امدادی کارروائیوں میں معاونت کر رہا ہے اور اس کے بین الاقوامی ترقی کے ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیمیں نقصانات کا اندازہ لگانے، صورتحال کا تعین کرنے اور "اضافی ضرورتوں کی رہنمائی" کرنے کے لیے وہاں موجود ہیں۔