.

تیونس: 14 اپوزیشن جماعتوں کا مذاکرات کی مشروط حمایت کا اعلان

بات چیت سے قبل وزیراعظم کی نامزدگی اہم شرط قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں گذشتہ ہفتے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عبوری سیٹ اپ کے لیے جاری مذکرات ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے بعد حزب اختلاف کی چودہ جماعتوں نے مشروط طور پر بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ بات چیت سے قبل عبوری وزیراعظم کے نام پراتفاق کیا جائے اور دستور ساز کونسل کے ڈھانچے میں کی جانے والی ترامیم کو منسوخ قرار دیا جائے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں لیبر پارٹی، ڈیموکریٹک پارٹی، تحریک ندائے تیونس اور پروگریسیو پارٹی سمیت مجموعی طور پر چودہ جماعتوں نے اس مشروط فارمولے پر دستخط کیے ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہےکہ النہضہ کی حکومت کے ساتھ اسی شرط پرمذاکرات ہوسکتے ہیں جب پہلے کسی غیرجانب دار شخصیت کو وزیر اعظم منتخب کیا جائے اور دستوری کونسل کے ڈھانچے میں کی والی آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

حزب مخالف گروپوں کا کہنا ہے کہ دو بنیادی شرائط اسلام پسند جماعت النہضہ کے ساتھ بات چیت کی بحالی کا راستہ ہیں۔ ہماری ان شرائط کو مان لیا جائے تو ملک میں جاری سیاسی انارکی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ تیونس میں اسلام پسند جماعت تحریک النہضہ کی حکومت اور لبرل اپوزیشن حلقوں میں سیاسی کشیدگی کئی ماہ سے جاری ہے۔ اپوزیشن کے دباؤ پر النہضہ نے حکومت چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے فریقین میں وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے کے لیے طویل مذکرات بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہو گئے تھے، جس کے بعد اپوزیشن نے مذاکرات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔