.

پاسداران انقلاب کی سوڈانی انٹلیجنس، صومالی شدت پسندوں کو تربیت کا انکشاف

حکومت مخالفین کی بیخ کنی کے لیے خرطوم میں فوجی یونٹ قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی انٹیلی جنس کے ایک منحرف اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب سوڈانی انٹلیجنس حکام اور صومالیہ میں سرگرم عسکریت پسندوں کو باضابطہ طور پر جنگی تربیت دے رہے ہیں۔ سوڈان میں ام درمان کے شمال میں "وادی سیدنا" کے مقام پر ایک ٹریننگ سینٹر قائم کیا گیا ہے جس میں جنگی تربیت فراہم کرنے والوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے افسربھی موجود ہیں۔

منحرف انٹیلی جنس کمانڈر مبارک احمد الباندیر نے"العربیہ " ٹی وی کو بتایا کہ سوڈانی فوج میں بریگیڈئرعبدالغفار الشریف کے زیر کمان ایک یونٹ حکومت مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس یونٹ کی کارروائیوں میں صدرعمرالبشیر کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے کئی سرکردہ لیڈروں کوراز داری میں موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔

مبارک الباندیر نے بتایا کہ مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ کے لیے قائم یونٹ اور حکمراں جماعت کے ہیڈ کواٹرز میں مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ حکمراں جماعت نیشنل کانگریس کے عہدیداروں کی ہدایت پرحکومت مخالفین کو غائب کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں صدرعمر البشیر کے معاون خصوصی ڈاکٹر نافع علی نافع اور خرطوم کے گورنر عبدالرحمان الخضر خصوصی ہدایات دیتے رہے ہیں۔

منحرف سوڈانی انٹیلی جنس اہلکار الباندیر نے کسی افریقی ملک کے کسی خفیہ مقام سے "العربیہ" کو انٹرویو دیا۔ اپنے انٹرویو میں اس نے اپنی فوج سے بغاوت، پکڑے جانے کے بعد جیل میں رہنے اور پھر جیل سے فرار کی تفصیلات بھی بتائیں۔ اس نے تسلیم کیا کہ صدرعمرالبشیر کے سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی اس کے رابطے ہیں۔