.

امریکی وزیر خارجہ کی خصوصی دورے پر ابوظہبی آمد

دورے کا مقصد "یو اے ای" کو ایرانی ایشو پراعتماد میں لینا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اتوار کو متحدہ عرب امارات کے ایک روزہ دورے پر ابوظہبی پہنچے ہیں۔

جان کیری جنیوا مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں "یو اے ای" حکام کو آگاہ کریں گے اور اس حوالے سے امریکی کوشش پر انہیں اعتماد میں لیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ شام میں جاری خانہ جنگی اور مسئلے کے سفارتی حل سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنیوا میں گروپ چھے اور ایران کے درمیان ہونے والے تین روزہ مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ یہ مذاکرات اتوار کوعلی الصباح بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید آل النھیان اور متحدہ عرب امارات کے اپنے ہم منصب عبداللہ بن زید آل النہیان سے بھی ملاقات کریں گے۔ بات چیت میں شام میں خانہ جنگی اور ایران کا جوہری پروگرام اہم موضوعات رہیں گے۔ بعد ازاں آج پیر کی شام جان کیری واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان پچھلے چند ہفتوں کے دوران کم ہوتے فاصلوں پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ واشنگٹن اپنے عرب دوستوں کو ایران کے حوالے سے تحفظات دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ جان کیری کا حالیہ دورہ اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ پچھلے ہفتے جان کیری سعودی عرب کے دورے پر ریاض بھی پہنچے تھے جہاں انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب کے علاوہ شاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

ابوظہبی پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پرعائد اقتصادی پابندیوں کے گہری اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے بعد تہران سخت عالمی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اس دباؤ کے بعد امید ہے کہ تہران اپنے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کا فیصلہ قبول کر لے گا۔