.

سفارتی تعلقات میں تعطل کا ذمے دار مراکش ہے: الجزائر

مراکشی حکام بہتر طور پر جانتے ہیں کہ انھیں کیا کرنا چاہیے: وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے وزیر خارجہ نے پڑوسی ملک مراکش کو سفارتی تعطل کا ذمے دار قراردیا ہے اور کہا ہے کہ کیسا بلانکا میں جب قونصل خانے سے الجزائری پرچم کو اتار پھینکا گیا اور اس کے ردعمل میں مراکشی حکام نے جو کچھ کیا،اس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں تعطل پیدا ہوچکا ہے۔

الجزائری وزیر خارجہ رامتین لمامرا نے اتوار کو دارالحکومت الجزائر میں نیوزکانفرنس کے دوران کہا کہ ''مراکشی حکام یہ بات بہتر طور پر جانتے ہیں کہ انھیں کیا کرنا چاہیے''۔

واضح رہے کہ یکم نومبر کو مراکش کے شہر کیسا بلانکا میں متنازعہ علاقے مغربی صحارا کے حوالے سے الجزائری مشن کے سامنے احتجاج کے دوران ایک نوجوان نے الجزائر کے پرچم کو عمارت سے اتار پھینکا تھا۔اس واقعے کے خلاف الجزائر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا تھا۔مراکشی حکام کا کہنا تھا کہ وہ واقعے کے ذمے دار شخص کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پُرعزم ہیں لیکن انھوں نے اس واقعہ پر معذرت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

الجزائری پرچم کی بے حرمتی کے ذمے دار شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب اس کے خلاف 21 نومبر سے مقدمہ چلایا جائے گا لیکن الجزائری وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ دُہرے جرم کے مجرم کا جس طرح مراکش میں بعض حلقوں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے ،یہ ایک توہین ہے۔

الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے ابوجا میں گذشتہ ماہ ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ مغربی صحارا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی میکانزم وضع کرنے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ان کی یہ تقریر پڑھ کر سنائی گئی تھی۔

انھوں نے اس تقریر میں مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی منظم انداز میں بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا جن کا ان کے بہ قول صحاروی عوام کی اظہاررائے کی آزادی اور تنظیم کے لیے پرامن جدوجہد کو دبانے کی غرض سے ارتکاب کیا جارہا ہے۔

مراکش کے شاہ محمد ششم نے الجزائری صدر کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کو لیکچر نہ دیا جائے۔خاص طور پر وہ لوگ نہ دیں جو خود انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ان کا واضح اشارہ عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب تھا۔

مراکش نے الجزائری صدر بوتفلیقہ کے دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ علاقے مغربی صحارا کے بارے میں حالیہ ریمارکس کے بعد الجزائر سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا جبکہ الجزائر نے مراکش کی جانب سے اپنا سفیر واپس بلانے کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قراردیا ہے۔

الجزائری وزارت خارجہ نے گذشتہ جمعرات کو مراکش کے اقدام کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا کہ ''یہ ایک غیر منصفانہ اور بلاجواز فیصلہ ہے۔یہ بے بنیاد اور غلط محرکات پرمبنی ہے اور اس کا مقصد الجزائر کی خودمختاری کو متاثر کرنا ہے''۔الجزائر نے مراکش کی جانب سے سفیر واپس بلانے کے فیصلے پر احتجاج کیا تھا لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ رباط سے اپنے سفیر کو واپس نہیں بلائے گا۔

مراکش نے مغربی صحارا کو سنہ 1975ء میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔حال ہی میں اس نے فاسفیٹ کی دولت سے مالا مال اس علاقے کو اپنے تحت زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز پیش کی ہے لیکن اس کو آزادی پسند پولیساریو فرنٹ نے مسترد کردیا ہے۔اس تنظیم کے ہیڈکوارٹرز الجزائرکے مغربی شہر تندوف میں قائم ہیں۔اس تنظیم کے جنگجو سنہ 1975 ء کے بعد کوئی ڈیڑھ عشرے تک مراکشی فوج سے آزادی کے لیے لڑتے رہے تھے۔ان کے درمیان ؁ 1991ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی۔