.

پوتین کی سعودی فرمانروا سے فون پرعلاقائی اورعالمی امور پر گفتگو

عالمی تنازعات طے کرنے کے لیے دو طرفہ تعاون بڑھانے پر باہمی دلچسپی کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے صدر ولادی میر پوتین نے اتوار کو سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے خطے کی تازہ صورت حال اور اہم عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کی اطلاع کے مطابق:''ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دونوں لیڈروں نے دو طرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا ہے''۔

درایں اثناء فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے کریملن کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ دونوں لیڈروں نے عالمی تنازعات کو طے کرنے کی غرض سے مختلف سطحوں پر دو طرفہ روابط اور تعاون کے فروغ کے لیے باہمی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دو سال کے لیے غیر مستقل نشست سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ سلامتی کونسل شام میں گذشتہ بتیس ماہ سے جاری بحران کے خاتمے اور خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔

سعودی عرب بنیادی طور پر روس اور چین کے سلامتی کونسل میں شام کے حوالے سے کردار سے نالاں ہے کیونکہ یہ دونوں ممالک ماضی میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف پیش کردہ تین قراردادوں کو ویٹو کر چکے ہیں اور وہ شامی صدر کی مسلسل حمایت کرتے چلے آ رہے ہیں جبکہ سعودی عرب شامی صدر کے خلاف ہے اور وہ ان کے مقابلے میں حزب اختلاف اور باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہا ہے۔

سعودی عرب اور روس کے تعلقات موخرالذکر کی جانب سے ایران کی جوہری پروگرام میں معاونت کی وجہ سے بھی کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ روس نے ماضی قریب میں ایران کا پہلا جوہری پاور پلانٹ تعمیر تیار کیا تھا اور وہ اس کو ایک جوہری قوت بنانے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے جبکہ سعودی عرب ایران کے جوہری بم کا مخالف ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ایران خطے کی علانیہ جوہری طاقت بنے۔اب تک صہیونی ریاست اسرائیل خطے کی غیرعلانیہ جوہری طاقت ہے۔