ایران اور عاللمی جوہری ادارے کے درمیان نقشہ کار پر اتفاق

تین ماہ میں یورینیم کے ذخائر اور بھاری پانی تک رسائی ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی [آئی اے ای اے] سے معاہدہ کیلیے ایک ''روڈ میپ'' طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے ایران، اقوام متحدہ کے نگران ادارے 'آئی اے ای اے' کو ایٹمی تنصیبات تک رسائی دے گا۔ ابتدائی طور پر ان قابل رسائی بننے والی تنصیبات میں یورینیم کے ذخائر اور بھاری پانی کے پلانٹ شامل ہوں گے۔

اس ابتدائی پیش رفت کے مطابق نقشہ کار برائے تعاون کا معاہدہ ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر عالمی ادارے کوعملی طور پر رسائی دے دی جائے گی جبکہ نقشہ کار برائے تعاون کےتحت ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باقی ماندہ ایشوز طے کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی [آئی اے ای اے] کے سربراہ یوکیا امانو نے ایران کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو پیش رفت قرار دیا ہے، البتہ یہ بھی کہا ہے کہ'' ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے ۔''

ایران اور اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کیطرف سے اس موقع پر جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''فریقین ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کریں گے اور مسئلے کا پرامن حل نکالیں گے۔''

جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ''دونوں فریق مزید تعاون کے طور پر تصدیقی عمل سے متعلق سرگرمیوں کے ذریعے موجودہ اور پرانے تنزعات طے کریں گے۔''

تاہم اس موقع پر یوکیا امانو نے ایران کے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے زیر الزام رہنے والے پرشین ملٹری کامپلیکس تک معائنہ کاروں کی رسائی کے معاملے کو التواء میں رکھا ہے۔

خبر رساں ادارے رائیترز کے مطابق پرچن ملٹری کمپلیکس کا جاری رہنا اہم معاملہ ہے، اسے بعد ازاں سامنے آنے والے اقدامات میں دیکھا جائے گا۔ اس موقع پر یوکیا امانو نے تسلیم کیا کہ ایرانی جوہری پروگرام طویل عرصے سے چلا آنے والا ایک پیچیدہ معاملہ ہے اس لیے ہر چیز کو راتوں رات طے نہیں کیا جا سکتا ہے ۔

واضح رہے یوکیا امانو ایک روز قبل ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ان کے ادارے کے مذاکرات جنیوا مذاکرات کا حصہ نہیں بلکہ ان کی اپنی اور آزادانہ حیثیت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں