خامنہ ای کے تحت ادارہ 95 ارب ڈالرز کے اثاثوں کا مالک

ایرانی سپریم لیڈر مالیاتی وسائل کے ضمن میں کسی حکومتی ادارے کے مرہونِ منت نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے تحت ادارہ 95 ارب ڈالرز مالیت کے اثاثوں کا مالک ہے اور یہ رقم ایران کی پیٹرولیم مصنوعات کی سالانہ برآمدات سے بھی زیادہ ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کی اس کاروباری شہنشاہیت سے متعلق یہ انکشاف برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے چھے ماہ تک اس معاملے کی تحقیقات کی ہے اور پھر جا کر آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیر انتظام اثاثوں کی یہ تفصیل خصوصی رپورٹ کی شکل میں جاری کی ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے تحت ''ستاد'' کے نام سے ایک غیر معروف ادارہ کام کررہا ہے۔اس نے ایرانی صنعت وکاروبار کے کم وبیش تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے،اس نے فنانس ،تیل ،ٹیلی مواصلات ،مانع حمل ادویہ سے لے کر شترمرغ بانی تک سرمایہ لگا رکھا ہے۔

رائیٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ ستاد نے بڑے منظم انداز میں عام ایرانیوں ،اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ،اہل تشیع ،کاروباری شخصیات اور بیرون ملک مقیم شہریوں کی جائیدادوں کو ہتھیا لیا ہے اور اب وہ رئیل اسٹیٹ کا ایک بڑا ادارہ بن چکا ہے۔اس ادارے کے پاس عدالت کا ایک حکم نامہ موجود ہے جس کے تحت وہ سپریم لیڈر کے نام پر جائیدادوں کو ہتھیانے میں اجارہ داری رکھتا ہے۔

ستاد عام ایرانیوں کی جائیدادوں کو مختلف حیلے بہانوں سے ہتھیاکر بعد میں نیلام عام کے ذریعے فروخت کرتا ہے۔رائیٹرز کے نامہ نگاروں کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے اربوں ڈالرز مالیت کی تین سو ایسی جائیدادوں کی نشان دہی کی تھی جن کی صرف ماہ مئی میں نیلامی کی گئی تھی۔

اس ادارے کا پورا نام ''ستاد اجرائے فرمان حضرت امام '' ہے۔یہ نام ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خامنہ ای کے دستخط شدہ ایک فرمان کی جانب اشارہ کرتا ہے جو انھوں نے 1989ء میں اپنی وفات سے چندے قبل جاری کیا تھا۔

اس حکم نامے کے تحت ایک ادارہ قائم کیا گیا تھا جو 1979ء میں ایران میں برپاشدہ اسلامی انقلاب کے مابعد متروکہ املاک کے انتظام کا ذمے دار ہوگا۔ستاد کے بانیوں میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ''یہ ادارہ غریبوں اور جنگ میں حصہ لینے والوں کی امداد کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اس کا وجود صرف دوسال قائم رہنا تھا''۔

لیکن آج قریباً ربع صدی کے بعد ستاد ایک دیوہیکل کاروباری جگرناتھ بن چکا ہے۔رئیل اسٹیٹ کا یہ مالک ہے،کاروباری اداروں میں اس نے سرمایہ لگا رکھا ہے اور اس کے دیگر شعبوں میں بھی بیش قیمت اثاثے ہیں۔ستاد ایک خیراتی فاؤنڈیشن کو بھی کنٹرول کرتا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس فاؤنڈیشن کو کتنی رقوم دی جاتی ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں اس تنظیم نے اپنے کاروباری اثاثوں میں گراں بہا اضافہ کیا ہے اور دسیوں نجی اور سرکاری ایرانی کمپنیوں کے حصص خرید کررکھے ہیں۔اس کاروباری پھیلاؤ کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ اس کے ذریعے ملک کی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ کرنا ہے۔

گذشتہ برسوں کے دوران سپریم لیڈر،ججوں اور پارلیمان نے ستاد کو تقویت بہم پہنچانے اور مضبوط کرنے کے لیے لاتعداد افسرشاہی فرمان ،عدالتی فیصلے جاری کیے ہیں اور آئینی تشریحات کی ہیں۔2010ء میں ایران کو خیرباد کہہ کر جرمنی جابسنے والے ایک وکیل ناگی محمودی کا کہنا ہے کہ ''کوئی بھی نگران ادارہ ستاد کی جائیدادوں کے بارے میں سوال نہیں کرسکتا''۔

جون میں امریکا کے محکمہ خزانہ نے ستاد اور اس کے تحت کاروباری اداروں پر اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کو ایرانی قیادت کی جانب سے کاروباری اثاثے چھپانے والی بہت سی کمپنیوں کا بڑا نیٹ ورک قراردیا تھا۔

ایرانی صدر کے دفتر اور وزارت خارجہ نے رائیٹرز کی جانب سے بھیجے گئے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔البتہ متحدہ عرب امارات میں ایرانی سفارت خانے نے برطانوی خبررساں ادارے کے ان تحقیقی نتائج کو بے سروپا، تضاد بیانی کا شکار اور بے بنیاد قراردیا ہے۔

ستاد کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل حامد وائزی نے اس تمام تفصیل کے جواب میں صرف یہ کہا ہے کہ ان کا حقیقت سے دورپار کا بھی تعلق نہیں ہے اور یہ درست نہیں ہیں۔اس کے مابعد پیغام میں انھوں نے کہا کہ ستاد امریکی محکمہ خزانہ کے الزامات کو نہیں مانتا اوراس معاملے میں ایک امریکی وکیل کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔

ستاد کے کل اثاثوں کی مالیت کا اندازہ کرنا تو مشکل ہے کیونکہ اس کے بہت سے اکاؤنٹس خفیہ ہیں لیکن رائیٹرز کے تخمینے کے مطابق ان کی مالیت 95 ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔اس میں سے 52 ارب ڈالرز کی جائیدادیں ہیں اور 43 ارب ڈالرز اس نے دوسرے کاروباری اداروں میں لگارکھے ہیں۔

یہ تمام اعدادوشمار ستاد کے عہدے داروں کے بیانات ،تہران اسٹاک ایکسچینج سے حاصل کردہ ڈیٹا ،کمپنی کی ویب سائٹ اور امریکی محکمہ خزانہ سے فراہم ہونے والی معلومات پر مبنی ہیں۔ستاد کے اثاثوں کی مالیت گذشتہ سال ایران کی تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن سے چالیس فی صد زیادہ ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق ایران نے گذشتہ سال 67ارب 40 کروڑ ڈالرز مالیت کا تیل برآمد کیا تھا۔

تاہم ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای امیر بننے کے لیے ستاد کو استعمال کررہے ہیں۔البتہ ستاد نے انھیں بااختیار بنا دیا ہے۔اس ادارے کے ذریعے وہ سابق شاہ ایران کے اثاثوں کے برابر مالیت کے ذمے دار ضرور بن گئے ہیں۔مغرب کے حمایت یافتہ شاہ ایران رضا پہلوی کو خامنہ ای کے پیش رو رہبر انقلاب آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایرانیوں نے اقتدار سے نکال باہر کیا تھا۔

تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خامنہ ای ایران کے سیاسی اقتدار اور مسلح افواج کے سربراہ ہونے کے علاوہ اس کے جوہری پروگرام کے مختارکل بھی ہیں اور اب ان کی ایک نئی طاقت کا انکشاف ہوا ہے اور وہ اقتصادی قوت کے بھی مالک ہیں۔

ستاد کی جانب سے بنائے گئے اثاثوں سے ایک بات یہ بھی ثابت ہوتی ہے کہ سپریم لیڈر کیونکر گذشتہ چوبیس سال سے ایران پر اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں اور وہ بعض حوالوں سے اپنے پیش رو آیت اللہ خمینی مرحوم سے زیادہ بااختیار ہیں۔وہ ستاد کی بدولت قومی بجٹ سے ماورا کام کرسکتے ہیں اور انھیں معاشی وسائل کے ضمن میں کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں