تیونس میں جھڑپیں، ایک مسلح جنگجو ہلاک، دو پولیس اہلکار زخمی

کاررروائی کے دوران 8 مشتبہ افراد گرفتار، بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے جنوب مشرقی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے مسلح جہادیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کررکھی ہے جس کے دوران ایک مسلح جنگجو ہلاک اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

تیونس کی وزارت داخلہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہےکہ''آرمی کے خصوصی یونٹ سوموار سے صوبہ قبیلی میں ایک بڑا سکیورٹی آپریشن کررہے ہیں۔آج صبح انھوں نے ایک کامیاب چھاپہ کارروائی اور ایک دہشت گرد گروپ کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کردیا ہے اور آٹھ کو گرفتار کر لیا ہے''۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ دوسرے مسلح جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں اور ان کی ٹانگوں میں گولیاں لگی ہیں۔

آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دستی بم ،ایک ٹرک جس میں بم نصب کیا جارہا تھا،پانچ کاریں اور بھاری نقدی کی شکل میں رقم انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے آلات اور تیس موبائل فونز شامل ہیں۔

واضح رہے کہ تیونس میں جنوری 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کی عوامی مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے جہادی تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔اس سال سکیورٹی فورسز پر خاص طور پر دہشت گرد کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جنوری کے بعد سے ان جہادی جنگجوؤں کے حملوں میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دوسرکردہ لیڈر قتل ہوچکے ہیں جبکہ ان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم سے کم تیس پولیس اہلکار اور فوجی مارے جاچکے ہیں۔

ان جنگجوؤں کا مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق بتایا جاتا ہے اور ان کے حملوں اور تشدد کے واقعات کے بعد تیونس میں ایک سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے۔ملک کی سیکولر حزب اختلاف اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت پر انتہا پسند گروپوں پرقابو پانے میں ناکامی کا الزام عاید کررہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں