'ہیان' طوفان کے متاثرین فلپینوز کے لئے یو اے ای کی امدادی رقوم

رشتہ داروں کے لاپتہ ہو جانے پر فلپائنی باشندے رنجیدگی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دبئی میں روزگار کیلیے مقیم میکوئی ٹامپل پر وہ لمحے بڑے بھاری تھے جب وہ اپنے ملک فلپائین کے لیے روانہ ہونے والا تھا۔ اپنے پیاروں خصوصا بیٹی اور اہلیہ سے جلد ملنے کی آرزو نے اس کیلیے انتظار کی گھڑیوں کو اس قیامت کی گھڑیاں بنا دیا تھا اور پھر انتظار کی گھڑیاں واقعی قیامت صغری کی گھڑیوں میں بدل گئیں۔

فلپائن میں جمعہ کے روز سمندری طوفان کے باعث ٹامپل کا اپنے شہر ٹیکلوبان کے لئے سفر موخر ہو گیا۔ اب اس کا کہنا اسے نہیں معلوم وہ اپنے سمندری طوفان زدہ ملک فلپائن میں کب جا سکے گا اور جب پہنچے گا تو اسے کس صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وہ بار بار اپنی ننھی بیٹی اور اہلیہ سے رابطے کی کوشش کر رہا ہے تباہ کن طوفان کی ہلاکت خیز آمد کے وقت اس کی بیٹی اور اہلیہ فلپائن کے ایک ہوٹل میں رہائش پذیر تھیں۔

ٹامپل کو اپنے اہل خانہ سے ملے ہوئے پانچ دن ہو چکے ہیں، اس لیے وہ ہر ایک سے کہتا پھرتا ہے کہ ہم سب کو دعاوں کی ضرورت ہے۔

یہ فلپائن کے صرف ایک شہری کی کہانی نہیں، روزی روٹی کیلیے اپنے گھر بار سے دور دیارغیر میں موجود ہر فلپائن اپنے ملک میں آنے والے ہلاکت خیز طوفان کے بعد اندر ٹوٹ بکھر گیا ہے گویا فلپائن میں آنے والا طوفان اسے بھی ہٹ کر گیا ہے۔

یہ طوفان اپنے وطن کی محبت، پیاروں کی جدائی، زندگی بھر کی کمائی کی بربادی ایسے سبھی احساسات اور محرومیوں کو جنم دینے کا ذریعہ بن گیا ہے۔

لیکن اس سے بھی زیادہ پریشانی انہیں اپنے عزیز و اقارب کی ہے جو طوفان کے بعد زندہ تو بچ گئے ہیں لیکن بے گھر بے در ہو کر نان جویں کو ترس رہے ہیں، جن کے پاس خوراک ہے، نہ لباس ہے نہ ادویات۔

اپنے ہاں کام کرنے والے فلپائنیوں اور آفت زدہ فلپائنی سرزمین کے باسیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر دس ملین ڈالر کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے، تاکہ مصیبت زدہ اہل فلپائن کو قدرے ریلیف کا احساس ہو جائے۔

تاہم ابھی عالمی برادری کی طرف سے مصیت زدگی سے دو چار فلپائن کے لیے بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ اس بارے میں دبئی میں مقیم ایک فلپائینی خاتون کارکن ''ریزا لینا ریپوسو'' کہنا تھا عرب امارات کی طرف سے امداد کا اعلان خوشگوار ہے۔ امید ہے یہ امداد حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچ جا ئے گی۔

ریپوسو کے انکل، آنٹی اور دو کزن اس طوفان میں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان کی تلاش جاری ہے تاہم خدشہ کہ وہ ہلاک ہو گئے ہوں گے۔

ابو ظہبی میں مقیم ایک فلپائینی کیربی فجاردو نے ''العربیہ ''سے بات کی اور کہا '' ہمیں امید ہے اس امدادی رقم سے ہمارے لاپتہ عزیزوں کی تلاش ممکن ہو جائے گی۔ انہیں خوراک اور خیمے مل سکیں گے۔ واضح رہے کیبری فجاردو کے چچا اور چچی بھی لاپتہ ہیں۔

متحدہ عرب امارات کیلیے فلپائن کے سفیر گریس پرنسیسا نے اپنے ملک کیلیے دی گئی امداد پر امارات کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں