تیونس: 32 سالہ نوجوان کا سرکاری عمارت کے سامنے اقدامِ خود سوزی

عرب افریقی ملک میں انقلاب کے تین سال بعد بھی خود سوزیوں اور خود کشیوں کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے دارالحکومت میں ایک سرکاری عمارت کے سامنے حالات سے دلبرداشتہ بتیس سالہ نوجوان نے خود کو آگ لگالی ہے جس کے نتیجے میں اس کا چہرہ ،چھاتی اور دونوں ہاتھ جل گئے ہیں۔

تیونس کی ایمرجنسی سروسز کے نمائندے مونجی القاضی نے بتایا ہے کہ سوموار کو خود کو نذر آتش کرنے والے نوجوان کو علاج کے لیے دارالحکومت تیونس کے نواح میں واقع علاقے بن عروس میں ایک خصوصی طبی کلینک میں منتقل کردیا گیا ہے۔

اس نوجوان کا تعلق تیونس کے علاقے انتلاخا سے بتایا گیا ہے اور اس کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ سماجی حالات کا مارا ہوا ہے۔وہ مختلف نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور اس نے گذشتہ ماہ بجلی کے ایک کھمبے سے لٹک کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ تیونس میں 17 دسمبر 2010ء کو ایک تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان محمد بوعزیزی کی خود سوزی کے نتیجے میں ملک میں انقلاب برپا ہوگیا تھا۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور وہ ان ہنگاموں کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔

تیونس کے شہر سیدی بوزید میں محمد بوعزیزی کی پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر خود سوزی کے بعد سے متعدد بے روزگار نوجوان خود کشی کرچکے ہیں حالانکہ انھی نوجوانوں نے عرب بہار کی بنیاد رکھی تھی جس کے نتیجے میں تیونس کے بعد مصر ،لیبیا ،یمن اور شام میں بھی مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف عوامی احتجاجی تحریکیں شروع ہوگئی تھیں۔

لیکن ان عرب بہاریہ انقلابات کے نتیجے میں تیونس اور دوسرے عرب ممالک کے عوام کی زندگیوں میں کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔وہ ماضی کی طرح گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔تیونس میں برپا شدہ انقلاب کے تین سال کے بعد بھی کل ایک کروڑ آبادی میں سے قریباً بیس لاکھ انتہائی غربت کا شکار ہیں جبکہ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد سات لاکھ سے متجاوز ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں