"کورونا" وائرس کا انسانوں کے ذریعے مویشیوں میں منتقلی کا شبہ

پہلا کیس سعودی عرب میں پیش آیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں وزارت صحت نے بتایا ہے کہ مہلک وائرس "کورونا" کے اثرات انسانوں کے ذریعے ان کے مویشیوں تک پہنچنے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ مملکت میں حال ہی میں ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے جس میں "کورونا" وائرس کے شکار ایک مریض کے آس پاس دیگرافراد اور گھرمیں موجود مویشیوں کا چیک اپ کیا گیا توایک اونٹ میں بھی اس وائرس کی موجودگی کا شبہ ہوا ہے۔

اس واقعے کے بعد خدشہ ہے کہ یہ جان لیوا وائرس انسانوں کے ذریعے مویشیوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ گو کہ ریاض میں سامنے آنے والے اس تازہ کیس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

وزارت صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں ڈاکٹروں نے "کورونا" وائرس سے متاثرہ ایک مریض کے گھرمیں دوسرے افراد اورمویشیوں کا چیک اپ کیا۔ معائنے کے دوران حیران کن اورغیرمتوقع طور پر ایک اونٹ میں بھی اس وائرس کی موجودگی کا شبہ ہوا ہے۔

تاہم ڈاکٹر اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا اونٹ کولاحق بیماری "کورونا" وائرس ہی کا نتیجہ ہے یا اس کے مشابہ کوئی اور بیماری ہے۔ اس حوالے سے سعودی عرب کی وزارت زارعت سے بھی مدد طلب کی گئی ہے۔ اگر اونٹ میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوجاتی تو یہ مویشیوں میں اس نوعیت کا پوری دنیا کا پہلا کیس ہوگا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں سنہ 2012ء میں کورونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک 107 افراد میں اس وائرس کی تشخیص کی جا چکی ہے۔ کورونا سے متاثر 49 افراد اسی وائرس سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ کچھ عرصے سےمشرق وسطیٰ میں یہ تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ سنہ 2003ء میں دنیا بھرمیں 800 افراد اس وائرس سے جاں بحق ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں