17 ہزارغیر قانونی تارکین وطن نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا

آپریشن کو سعودی عرب کے دور درازعلاقوں تک پھیلانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں غیر قانونی قیام پذیر تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ حکام کے مطابق سرچ آپریشن کے دوران سترہ ہزارغیر ملکیوں نے رضاکارانہ طورپر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

ریاض پولیس کے ترجمان کرنل ناصرالقحطانی نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ بڑے شہروں میں غیرملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں پکڑے جانے والے افراد کو پولیس کے زیرانتظام حفاظتی مراکز میں رکھا گیا ہے۔ وہیں سے انہیں ان کے ملکوں میں واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اب تک کم سے کم سترہ ہزارغیرملکیوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس حکام کے حوالے کیا ہے۔

کرنل قحطانی نے بتایا کہ گرفتارہونے والوں میں خواتین، بچے اور پورے پورے خاندان بھی شامل ہیں۔ حکومت انہیں ان کے ملکوں میں واپسی کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اتوار کے روز مکہ مکرمہ میں ایتھوپیائی غیرقانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد نے گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے کارروائی کرکے 5000 ایتھوپین باشندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایتھوپیائی باشندوں کی اکثریت نے رضاکارانہ طورپر خود کو حکام کے حوالے کیا تاہم بدنظمی پھیلانے والے 1200 افراد کےخلاف سخت کارروائی کی گئی اور انہیں بھی حراست میں لے لیا ہے۔ ان میں 119 عورتیں اور 11 بچے بھی شامل ہیں۔

ریاض پولیس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں قیام پذیرغیر ملکیوں کے خلاف آپریشن کو وسعت دی جا رہی ہے۔ کئی شہروں میں آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ حراست میں لیے گئے غیر ملکیوں کو پہلے ان کے ملکوں کے حوالے کردیا جائے، جس کے بعد اگلے مرحلے میں مزید غیرملکیوں کی تلاش شروع کی جائے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی حکومت پچھلے ایک سال سے ملک میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی دھارے میں لانے کےلیے کوشاں ہے۔ اس ضمن میں ریاض نےغیر قانونی تارکین وطن کو دستاویزات مکمل کرنے اور دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے سات ماہ کی مہلت بھی دی تھی۔ مہلت ختم ہونے کے بعد غیر ملکیوں کے خلاف سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں