.

امریکا نے نائیجیرین تنظیم بوکو حرام کو دہشت گرد قرار دے دیا

کوئی امریکی شہری بوکوحرام اور انصارو کی مالی معاونت نہیں کرسکے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے نائیجیریا کی معروف جنگجو تنظیم بوکو حرام اور اس کے ذیلی گروپ انصارو کو دہشت گرد قراردے کر بلیک لسٹ کردیا ہے۔

امریکا نے سرکاری طور پر ان دونوں نائیجیرین گروپوں کو غیرملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا ہے۔اس اقدام کے بعد اب کوئی بھی امریکی شہری ان تنظیموں کی مالی معاونت نہیں کرسکے گا یا ان سے کوئی لین دین نہیں کرے گا۔اس کے علاوہ ان کے امریکا میں موجود اثاثے بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ہوم لینڈ سکیورٹی کی مشیر لیسا موناکو نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''گذشتہ چند سال کے دوران بوکو حرام اور انصارو نائیجیریا کے شمال مشرقی اور وسطی علاقوں میں ہونے والی ہزاروں ہلاکتوں کی ذمے دار ہیں۔انھوں نے گرجاگھروں ،مساجد پر متعدد حملے کیے،شہریوں کو ہدف بنا کر قتل کیا اور 2011ء میں ابوجا میں اقوام متحدہ کی عمارت پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس بم دھماکے میں اکیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے''۔

انھوں نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''ان دونوں دہشت گرد تنظیموں کے امریکا کے مالیاتی اداروں سے تعلق کو منقطع کرکے اور بنکوں میں ان کے اثاثے منجمد کر کے نائیجیریا کی دہشت گرد کے خلاف جنگ میں بھرپور حمایت کا اظہار کیا گیا ہے''۔

امریکا نے بوکوحرام پر الزام عاید کیا ہے کہ اس کے اسلامی مغرب میں القاعدہ کے ساتھ روابط ہیں۔انصارو اسی تنظیم سے الگ ہونے والا گروپ ہے۔اس گروپ نے اس سال کے اوائل میں سات غیرملکی تعمیراتی کارکنوں کو اغوا کے بعد قتل کردیا تھا۔

نائیجیریا کی حکومت نے ملک کے شمال مشرقی علاقے میں ایمرجنسی نافذ کررکھی ہے جس کے بعد سے بوکو حرام سے تعلق رکھنے والے جنگجو گذشتہ چھے ماہ کے دوران شہروں سے دیہات کی جانب چلے گئے ہیں لیکن ان کے حملے مسلسل جاری ہیں اور ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

نائیجیریا کی حکومت نے تین ریاستوں یوب ،بورنو اور آدم وا میں دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ان تینوں ریاستوں کی سرحدیں پڑوسی ممالک نیجر ،چاڈ اور کیمرون سے ملتی ہیں۔نائیجیری فوج کے بہ قول دہشت گرد حملوں کے بعد غیر محفوظ سرحدوں کے ذریعے ان ممالک میں چلے جاتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے ستمبر میں نائیجیرین صدر گڈلک جوناتھن سے ملاقات کی تھی اور ان پر زوردیا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کریں جس کے تحت دہشت گردوں کے قلع قمع کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موثر طور پر استعمال کیا جائے،اقتصادی مواقع پیدا کیے جائیں اور انسانی حقوق کے تحفظ اور احترام کو یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں 2009ء کے بعد سے اسلامی مزاحمت کاروں کے حملوں میں ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔نائیجیریا میں تشدد کے ان واقعات کے بعد عالمی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کیونکہ یہ تشدد غیر محفوظ سرحدوں سے دوسرے علاقوں تک بھی پھیل سکتا تھا۔