.

مظاہرین کی حمایت پر طیب ایردوآن کا تجارتی کمپنی سے انتقام

"کوچ گروپ" کے اربوں ڈالر مالیت کے ٹھیکے منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ اپنی حکومت کے خلاف چند ماہ قبل ہونے والے مظاہروں میں مدد فراہم کرنے والوں سے انتقام لینے پر اتر آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے حکومت مخالف مظاہروں کی سپورٹ کرنے کی پاداش میں ملک کی سب سے بڑے تجارتی اور صنعتی فرم "کوچ گروپ" کو دیے گئے اربوں ڈالر مالیت کے ٹھیکے منسوخ کردیے ہیں۔

اخبار"حریات" کی رپورٹ کے مطابق ترک حکومت سرکاری ٹھیکوں کے لیے قدامت پسند خیالات رکھنے والے گروپوں کو منتخب کرتی ہے اورحکومت مخالفین کی طرف داری کرنے والوں کو نظراندازکیا جا رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال "کوچ گروپ" کی ہے جسے حکومت کی ہٹ دھرمی کا سامنا ہے۔

وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے نہ صرف کمپنی کو مزید سرکاری ٹھیکے دینے سے انکارکردیا ہے بلکہ پہلے سے دیے گئے کئی پروجیکٹ بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں "کوچ گروپ" کے ملکی معیشت میں معاونت کی بھی تفصیلات جاری کی گئی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ملک میں تیل صاف کرنے کے سب سے زیادہ اور اعلیٰ معیار کے کارخانے "کوچ گروپ" کے پاس ہیں۔ اس کے علاوہ اس گروپ کے ملک بھرمیں کئی بڑے تجارتی مراکز ہیں۔ اس کمپنی کا مجموعی قومی پیدوارمیں نو فی صد حصہ ہے۔ یہ گروپ 10 فی صد درآمدات اور کل ٹیکسوں کا 09 فی صد ادا کرکے قومی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔ اس کےعلاوہ دنیا بھرکی بڑی فرموں کے ساتھ بھی اس گروپ کے مشترکہ پروجیکٹ چل رہے ہیں۔ ان غیرملکی فرموں میں کاریں تیارکرنے والی"فورڈ" کمپنی بھی شامل ہے۔

"کوچ گروپ" اور ایردوآن حکومت کے درمیان کشیدگی رواں سال موسم گرما میں اس وقت شروع ہوئی تھی استنبول میں حکومت مخالف مظاہرین پولیس کی شیلنگ سے بچنے کے لیے اس گروپ کے ہوٹلوں میں جا گھسے تھے۔ پولیس نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ہوٹلوں کے اندر بھی اشک آور گیس کی شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں نہ صرف سیکڑوں افراد متاثر ہوئے بلکہ ہوٹلوں کی مالک فرم نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کی تھی۔ کئی ریستوران میں معمول کے طعام وقیام کا کام روک دیا گیا اور ہوٹلوں کو ریلیف مراکزمیں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس پر ایردوآن حکومت برانگیختہ تھی کہ "کوچ گروپ" نے اپنے ہوٹل حکومت مخالفین کو پناہ دینے کے لیے استعمال کیے ہیں۔

سولہ جون کو وزیر اعظم طیب ایردوآن نے اپنے حامیوں کے ایک بڑے جلسے سے خطاب میں بھی ان ریستورانوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ان ہوٹل مالکان کو بخوبی جانتے ہیں جنہوںنے دہشت گردی کے مرتکب مظاہرین کی مدد کی ہے۔ ایسے لوگوں کو ضرور سزا دی جائے گی"۔
ستمبر میں انکم ٹیکس پولیس نے "کوچ گروپ" کے کئی تیل صاف کرنے والے کاخانوں پر چھاپے مارے اور خلاف معمول تلاشی لی گئی تاہم حکام کا دعویٰ تھا کہ یہ معمول کی کارروائی تھی۔ اسی ماہ کے آخر میں ترک حکومت اور "کوچ گروپ" کی نجی کمپنی "آرام کیہ میرین" کے درمیان دو ارب ڈالر کا ایک معاہدہ منسوخ کردیا گیا۔

قبل ازیں حکومت اور"آرام کیہ میرین" کے درمیان معاہدے کی تمام شرائط طے پا چکی تھیں۔ یہ معاہدہ دراصل ترک محکمہ دفاع اور "کوچ گروپ" کے درمیان تھا جس کے تحت آٹھ چھوٹے بحری جہاز اور چھ جنگی کشتیاں تیار کرنا تھیں۔ بعد ازاں اسی کمپنی سے ٹینکوں کی تیاری کے لیے کیا گیا معاہدہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔ دوسرے معاہدے میں پانچ سوملین ڈالر کی رقم سے ٹینکوں کواپ گریڈ کرنا تھا۔