.

پاکستانی نوجوان پر 'فیس بک' کے ذریعے عراقی القاعدہ کی مدد کا الزام

عبدالباسط کے والد کی بیٹے کی جبھہ النصرہ میں شمولیت کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ایک پاکستانی شہری کو شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جہادی گروپ کے ساتھ مل کر لڑائی میں شامل ہونے کا منصوبہ رکھنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ اگر عبدا لباسط شیخ پر جرم ثابت ہو جائے تو انھیں 15 سال تک جیل اور 2 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عبدالباسط جاوید شیخ پر جن کی عمر 29 سال ہے الزام ہے کہ انھوں نے القاعدہ سے منسلک شامی حکومت کے خلاف برسرِ پیکار جہادی گروپ میں شامل ہونے کا منصوبہ بنایا۔ ان پر فردِ جرام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے بیرونی دہشت گرد ادارے کو امداد فراہم کرنے کی کوشش کی۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق عبدالباسط شیخ کے والد جاوید شیخ نے منگل کو کہا کہ وفاقی حکومت نے ان کے بیٹے پر شام میں شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے کا غلط الزام عائد کیا ہے۔ انھوں نے امریکی سکیورٹی ادارے ایف بی آئی کے طرف سے اس بیان کو رد کیا کہ ان کا بیٹا جبھہ النصرۃ نامی تنظیم میں شامل ہونا چاہتا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عبدالباسط شیخ کو دو نومبر کو شمالی کیرولینا میں جہاز پر سوار ہونے سے پہلے گرفتار کیا گیا۔ اے ایف پی کے مطابق عبدالباسط شیخ نے امریکی سکیورٹی ادارے ایف پی آئی کے ایک خفیہ اہلکار کو جبت النصرۃ نامی گروپ کا رکن سمجھ کر ان سے رابطہ کیا۔امریکی محکمۂ خارجہ اس گروپ کو القاعدہ کا شام میں ذیلی تنظیم سمجھتا ہے۔

حلفیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ باسط شیخ نے ایف بی آئی کے اہلکار کو ستمبر کے اوائل میں بتایا تھا کہ انھوں نے ترکی جانے کے لیے جہاز کا یک طرفہ ٹکٹ خریدا ہے اور امید ظاہر کی کہ وہاں ان کا ایسے لوگوں سے رابطہ ہو جائے گا جو انھیں شام لے جائیں گے۔

باسط شیخ پر گذشتہ ہفتے شمالی کیرولینا میں فردِ جرم عائد کیا گیا تھا، وہاں پر امریکی اٹارنی جنرل کے دفتر کے مطابق باسط شیخ نے شام جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاکہ وہ وہاں’ کسی بھی طریقے سے مجاہدین کی مدد کرے۔‘

گذشتہ ہفتے عدالت میں سماعت کے دوران شیخ باسط کو اپنی دفاع کے لیے دو سرکاری وکلا کی خدمات حاصل تھیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایف بی آئی کے اہلکار جیسن ماسلو نے اپنی حلفیہ بیان میں کہا کہ اس سال پانچ مہینے تک عبد الباسط شیخ نے اپنے فیس بک کے صفحے پر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے شدت پسندوں کے حق میں پیغامات اور ویڈیوز شائع کیے۔‘

حلفیہ بیان کے مطابق اگست میں باسط شیخ نے اسلامی شدت پسندی کو فروغ دینے والے 'فیس بک' کے صفحے پر ایف بی آئی کے خفیہ اہلکار کے ساتھ تعلقات بنائے۔ حلفیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ باسط شیخ نے ایف بی آئی کے اہلکار کو ستمبر کے اوائل میں بتایا تھا کہ انھوں نے ترکی جانے کے لیے ہوائی جہاز کا یک طرفہ ٹکٹ خریدا ہے اور امید ظاہر کی کہ وہاں ان کا ایسے لوگوں سے رابطہ ہو جائے گا جو انھیں شام لے جائیں گے۔

ایف بی آئی کے اہلکار کے حلفیہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ باسط شخ نے کہا کہ وہ اس سفر پر اس لیے روانہ نہیں ہوئے کیونکہ ’ان میں والدین کو چھوڑنے کی ہمت نہیں ہوئی‘۔ باسط شیخ نے یہ بھی کہا کہ وہ گذشتہ سال شام کی لڑائی میں شامل ہونے کے لیے ترکی گئے تھے لیکن وہاں وہ اپنے آپ کو امریکا کے حمایت یافتہ آزاد شامی فوج یا فری سیرین آرمی کا رکن بتانے والے افراد سے مایوس ہو گئے تھے.