.

ایرانی جوہری مسئلے کے پرامن حل پر متفق ہیں: وائٹ ہاوس

صدر اوباما اور کیمرون کے درمیان نئِ پیدا شدہ صورت حال پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر اوباما اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایران کے جوہری تنازعے کے حوالے سے باہم تبادلہ خیال کرتے ہوئے اس بارے میں جنیوا مذاکرات کے اگلے مرحلے میں امکانی پیش رفت اور رکاوٹوں کا جائزہ لیا ہے۔ دونوں کا مسئلے کے پرامن حل کیلیے عزم کا اعادہ۔

اس سلسلے میں دونوں رہنماوں کے درمیان بعض امریکی قانون سازوں کی طرف سے سامنے آنے والے تازہ خیالات پر بھی باہم بات چیت ہوئِی ہے۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاوس نے اس بارے میں کہا ہے کہ'' صدر اوباما اور وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے جنیوا مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور ان مذاکرات کے تیسرے راونڈ سے وابستہ توقعات پر بات کی ہے۔''

دونوں ملکوں کے درمیان یہ اعلی ترین سطح پر رابطہ اس انتباہ کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے جس میں ایرانی جوہری پروگرام کی وجہ سے جنگی صورتحال پیدا ہو سکنے کا اشارہ دیا گیا تھا۔ امریکی ترجمان جے کارنے کے مطابق '' امریکی عوام جنگ کی طرف پیش قدمی نہیں چاہتے ہیں ۔''

جے کارنے کا مزید کہنا تھا '' امریکی عوام منصفانہ اور قابل فہم انداز میں اس مسئلے کے پر امن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاکہ ایران کو جوہری اسلحے کی تیاری سے روکا جا سکے۔''

امریکی ترجمان نے کہا امریکی عوام کو فوجی اقدام اور ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے بری ڈیل پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔''