.

ایران: محمود احمدی نژاد کا دفتر بند، سامان ایوان صدر منتقل

سابق صدر ایوان صدر کے ملکیتی سیکڑوں تحائف بھی ساتھ لے گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے پراسیکیوٹرجنرل کی ہدایت سابق صدرمحمود احمدی نژاد اوران کے مقربین کےزیراستعمال دفترکو بند کرکے دفتری سامان ایوان صدر منتقل کردیا گیا ہے۔ تہران کےشمال میں واقع یہ دفتر رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد سابق صدرکواپنے استعمال کے لیے دیاگیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق منگل کے روزپراسیکیوٹر جنرل کی ہدایت پرشمالی تہران میں "ونک" کے مقام پر"لادن" دفتر کو بند کرنے کی ہدایت کی گئی۔ سابق صدرمحمود احمدی نژاد رواں سال اگست میں صدارت سے سبکدوشی کے بعد اس دفتر میں منتقل ہوئے تھے۔ ایوان صدرسے جاتے ہوئے وہ اپنے دور میں ملنے والے تحائف اور کئی دیگرقیمتی اشیاء بھی ساتھ لے گئے تھے، جنہیں اب سعد آباد میں قائم صدارتی محل میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ایرانی خبررساں ایجنسی"تسنیم" کی رپورٹ کے مطابق عدالت کے حکم کے مطابق سوموار کوحکام نے سابق صدرکے دفتر اوراس کے سامان کا جائزہ لینا تھا تاہم دفتر بند ہونے کے باعث سامان منتقل نہیں کیا جاسکا۔ منگل کے روز دفتری عملے کو ضروری سامان ایوان صدر منتقل کرتے دیکھا گیا۔

ایک دوسری نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"ایسنا" کے مطابق سابق صدرکے زیراستعمال عمارت کو اب وزیر قانون و انصاف مصطفیٰ بورمحمدی کا دفتر بنایا جا رہا ہے۔

خبررساں ایجنسی" مہر" نے رواں سال جنوری میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایوان صدر سے دو ہزار 283 تحائف اور دیگراہم سامان چارٹرکوں پر لاد کر"لادن ہاؤس" لے جایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدرکی حیثیت سے وصول کیے گئے تحائف قانون کی رو سے ایوان صدرکی ملکیت ہیں جنہیں کوئی سابق صدر اپنے ذاتی دفتر یا گھرمیں نہیں رکھ سکتا ہے۔ "لادن" ہاؤس میں منتقلی کے بعد ایرانی مجلس شوریٰ کے کئی ارکان نے محمود احمدی نژاد کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔

ارکان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ سابق صدر اپنے نجی دفترکو ایک متوازی ایوان صدر بنا رکھا ہے جہاں وہ اپنے مقربین کے اجلاس منعقد کرتے رہتے ہیں۔ حکومت کے اہم اجلاسوں کے دوران سابق صدر کی کوئی نہ کوئی میٹنگ بھی چل رہی ہوتی ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

خیال رہے کہ سابق صدرمحمود احمدی نژاد نے اپنے پیشرو محمد خاتمی کو دفترالاٹ کرنے کی مخالفت کی تھی تاہم وہ سابق ہوجانے کے بعد وہ خود اس سہولت سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔