.

لیبیا: باغیوں کے زیر استعمال آپریشن روم فوج کے "جی ایچ کیو" میں تبدیل

باغی گروپوں کو فوج اور پولیس میں بھرتی کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس [پارلیمنٹ] نے باغیوں کے زیراستعمال آپریشن ہیڈ کواٹرزکو فوج کے جنرل ہیڈ کواٹرز [جی ایچ کیو] میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے پرعمل درآمد رواں سال کے اختتام تک ہو گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبی پارلیمنٹ نے حال ہی میں دو نئی قراردادیں27 اور53 کی منظوری دی تھی جن کےتحت باغیوں کے زیراستعمال دفاترکومسلح افواج کے مراکزمیں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کے ترجمان عمرحمیدان نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ "ایوان کی منظوری کے بعد باغیوں کے استعمال میں آپریشن روم کو فوج کے مرکزمیں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں باغیوں کے کنٹرول میں رہنے والے دفاتراب براہ راست مسلح افواج یا پارلیمنٹ کی ہدایت کے مطابق کام کریں گے۔ پارلیمنٹ کے فیصلے کے تحت اب سابق آرمی چیف جنرل نوری بوس ہمین ان مراکز کو کنٹرول نہیں کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان حمیدان نے کہا کہ لیبیا میں سابق مطلق العنان اور مقتول صدر کرنل معمر قذافی کے خلاف لڑنے والے باغی گروپوں کوباضابطہ فوج یا پولیس میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پرصرف ایک انتظامی آرڈ کا اجراء باقی ہے۔ یہ انتظامی نوعیت کا معاملہ ہے جسے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی ڈیل کریں گے۔ سیاسی معاملات سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آرمی ہیڈ کواٹرکے ماتحت آنے والے آپریشنل روم کے مستقبل کی کیا حیثیت ہوگی؟ توانہوںنے کہا کہ اس کا فیصلہ مسلح افواج کے سربراہ پرچھوڑا گیا ہے۔ وہی اس حوالے سے کوئی مناسب فیصلہ کریں گے۔

باغیوں کی جانب سے فیصلے کا خیرمقدم

درایں اثناء لیبی باغیوں کی جانب سے آپریشنل روم کو فوجی مرکزمیں تبدیل کرنے کے حکومتی فیصلے کو مثبت پیش رفت قراردیا ہے۔ آپریشن روم کے ڈائریکٹربرائے سیاسی امورعادل الغریان نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ فیصلہ قوم کے منتخب اورحقیقی نمائندہ ادارے کی جانب سے کیا گیا ہے، ہمیں ہرصورت میں اس کا احترام کرنا ہے۔ یہ ایک قسم کا انتظامی معاملہ ہے جس سے انقلابیوں کو زیادہ فعال اور منظم کرنے میں مدد ملے گی۔

باغیوں کی جانب سے فیصلے کی حمایت کے ساتھ عوامی حلقوں میں ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بعض مبصرین کا خیال ہےکہ اس اقدام سے باغیوں کو منظم کرنے اور انہیں ایک بااختیار ریاستی ادارے کا حصہ بنانے میںمدد ملے گی تاہم کچھ ماہرین اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ یہ وہی آپریشن روم ہے جس پر 10 اکتوبر کو وزیراعظم علی زیدان کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم باغیوں کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تھی اور وزارت داخلہ کے ماتحت محکمہ انسداد جرائم کےعملے نے ان کی اغواء کی ذمہ داری قبول کی تھی۔