.

لیبیا: مروجہ قوانین کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کے لیے قانون سازی

جہادی گروپوں کے دباؤ پرقوانین میں ترامیم کے لیے 16 رکنی کمیٹی قائم کی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی حکومت مروجہ قوانین کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کے لیے قانون سازی کررہی ہے۔اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جا رہی ہے جو ملک میں نافذ العمل قوانین کا جائزہ لے کران میں ترامیم تجویز کرے گی۔

اس بات کا انکشاف لیبیا کی وزارت انصاف کی ایک دستاویز میں کیا گیا ہے۔اے ایف پی کو ملنے والی اس دستاویز کے مطابق یہ کمیٹی سولہ ارکان پر مشتمل ہوگی۔اس کے ارکان کو ملک کی عدالت عظمیٰ اور ایک ماہر مفتی نامزد کریں گے۔

اس کمیٹی کے سربراہ ایک جج ہوں گے اور اس میں اسلامی جامعات کے پروفیسروں کو بھی شامل کیا جائے گا۔کمیٹی کی قوانین میں ترمیم شدہ تجاویز کو منظوری کے لیے لیبیا کی منتخب اسمبلی جنرل نیشنل کانگریس میں پیش کیا جائے گا۔

وزارت انصاف کی جانب سے ملک میں مروجہ قوانین میں شریعت کے مطابق ترامیم سلفیوں اورانتہاپسند سنی مسلمانوں کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کی جارہی ہیں تاکہ انھیں مطمئن کیا جاسکے۔

لیبیا میں شرعی قوانین کے علاوہ خواتین اور اقلیتوں کی حیثیت کو بھی مستقبل کے آئین میں متعین کیا جائے گا۔شمالی افریقہ میں واقع اس ملک میں راسخ العقیدہ اسلام کی جڑیں گہری ہیں۔تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ نیا آئین شریعت کے مطابق وضع کیا جائے گا اورانتہا پسندی کے خاتمے کے لیے بھی قانون سازی کی جائے گی۔

لیبیا کے سب سے بڑے جہادی گروپ انصارالشریعہ نے گذشتہ منگل کو کہا تھا ملک میں صرف اسلامی قوانین کے نفاذ کے ذریعے ہی امن وامان کی ابتر ہوتی ہوئی صورت حال پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

انصارالشریعہ سکیورٹی سروسز سمیت ملک کے ریاستی اداروں کو تسلیم نہیں کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ ادارے شیطان کی خدمات بجا لارہے ہیں اور طاغوت ہونے کا کردار ادا کررہے ہیں۔واضح رہے کہ انصارالشریعہ ان سابق باغی جنگجو گروپوں میں سے ایک ہے جو حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں اور ان کی موجودگی لیبی حکومت خاص طور پر مشرقی علاقوں میں اپنی عمل داری قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

یہ گروپ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے آگے خود وزیراعظم علی زیدان بھی بے بس دکھائی دیتے ہیں۔دوہفتے قبل مسلح افراد نے دارالحکومت طرابلس میں خود وزیراعظم ہی کو اغوا کر لیا تھا۔انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا بن غازی اور دوسرے شہروں میں بدامنی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کو مضبوط بنایا جائے گا۔