.

مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کیخلاف فوجی آپشن موجود ہے: امریکا

چند ہفتے دیئے جائِیں، جان کیری کی سینیٹ بنکنگ کمیٹی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹروں کی جانب سے ایران کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں لگانے کی کوششوں کو روکنے کیلیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی بھاگ دوڑ شروع ہو گئی ہے۔

اس سلسلے میں انہوں سینیٹ کی بنکنگ کمیٹی کے ارکان کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر جنیوا میں ہونے والے اب تک کے مذاکرات کی پیش رفت اور چھ عالمی طاقتوں کے متفقہ موقف سے آگاہ کیا ۔

بند کمرے میں سینیٹ کی بنکنگ کمیٹی سے ہونے والی بات چیت سے پہلے جان کیری کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا '' ہم نے ایران کیخلاف پابندیاں لگا کر اس پر دباو بڑھایا، اس کے مقابلے میں اپنی پوزیشن بہتر کی اور ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا، اب ہم ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کے مرحلے میں ہیں ۔''

انہوں نے مزید کہا ''اگر کانگریس نے یکطرفہ طور پر ایران کو نئی پابندیوں کے ساتھ زیر بار لانے کی کوشش کی تو اس سے مذاکرات میں شامل ایران کا اعتماد باقی نہیں رہے گا، نتیجتا ایران مذاکرات سے بھاگ جائے گا ۔''

واضح رہے امریکی کانگریس قبل ازیں ایران پر پابندیاں سخت کرنے کے حوالے سے قانون سازی کر چکی ہے جس کی وجہ سے ایرانی معیشت عملا سزا پا رہی ہے۔ سینیٹ کی بنکنگ کمیٹی سفارتی سطح پر جاری امریکی کوششوں کے باوجود ایران کو مزید پابندیوں کا نشانہ بنانے کی کوشش میں ہے۔

اس صورتحال میں جان کیری نے کہا 'ہم ہر ایک سے کچھ دیر کیلیے ٹھنڈا رہنے کیلیے کہہ رہے ہیں، اس چیز کیلیے سختی کی جائے جو ممکن ہو اور حقائق کو نطر انداز نہ کیا جائے ۔''

جان کیری نے کہا '' ہم چاہتے ہیں کہ ایران کو چند ہفتے کیلیے موقع دے کر دیکھا جائے کہ وہ کیا رزلٹ دیتا ہے، اس بارے میں دنیا کی چھے بری طاقتوں کے درمیان بھی اتفاق ہے ۔''

امریکی وزیر خارجہ نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ اگر ایران تعاون نہیں کرتا اور مذاکرات ناکام رہتے ہیں تو ''ہم واپس پابندیوں کے راستے پر جا سکتے ہیں، میں خود حکومت سے پابندیوں کیلیے رجوع کروں گا اور ایرانی جوہری پروگرام سے نمٹنے کیلیے فوجی آپشن کا حق بھی محفوظ ہو گا۔''

اسی دوران صدر اوباما نے فرانس کے صدر کے ساتھ فون پر بات کی ہے اور وائٹ ہاوس کیطرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ''دونوں ملک ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کیلیے یکسو ہیں۔'' لیکن اوباما کو اپنے ہاں امریکا میں اس حوالے سے دباو کا سامنا ہے ۔

اوباما کو اہم امریکی اتحادیوں اسرائیل اور سعودی عرب کی ناراضگی کا بھی سامنا ہے جو ایرانی جوہری پروگرام کو سخت خطرناک سمجھتے ہیں اور ایران پر بھروسہ نہ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔