.

ملکی معیشت پر کنٹرول کے لیے خامنہ ای نے آئین سازی کا سہارا لیا

احمدی نژاد "ستاد" کی بالادستی میں معاون ثابت ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی خبر رساں ادارے"رائیٹرز" کی جانب سے ایرانی معیشت پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کنٹرول سے متعلق اپنی مفصل رپورٹ میں بتایا ہے کہ مرشد اعلیٰ اپنے زیر انتظام ادارے"ستاد" کو موثر بنانے اور ملکی معیشت کو اپنی مٹھی میں بند رکھنے لیے قانون سازی کا سہارا لیتے رہے ہیں۔

ایجنسی کے بقول انہوں نے ریاست کی ایک طاقتور مقتدرہ کی حیثیت سے ماضی کی حکومتوں کو بھی اپنے مفاد کے لیے قانون سازی پر مجبور کیے رکھا ہے۔ مختلف ادوار میں ہونے والی آئین سازی کے ذریعے ایرانی حکومتوں اور عدلیہ نے خامنہ ای کے اقتصادی ادارے"ستاد" کو مزید مضبوط بنایا ہے جس کے نتیجے میں یہ تنظیم آج ایک دیوہیکل سرمایہ کار ادارہ بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای اپنی منشاء کے تحت پارلیمنٹ [مجلس شوریٰ] ملک کی اعلیٰ عدالتوں اورحکومتوں کو"ستاد" کے مفاد کے لیے استعمال کرتے اورشاہی فرمان جاری کراتے رہے ہیں۔ اپنی شنہشاہیت قائم رکھنے کے لیے انہوں نے کئی قوانین خود ہی وضع کیے جنہیں دباؤ کے ذریعے مجلس شوریٰ سے منظور کرایا گیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی چھ ماہ کی جاں فشانی کے بعد جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت "ستاد" کے حوالے سے خامنہ ای کے لیے زیادہ قابل بھروسہ رہی ہے۔ محمود احمدی نژاد کے دو مرتبہ صدر منتخب ہونے کے برسوں میں"ستاد" بھی خوب پھلا پھولا کیوںکہ سابق صدر احمدی نژاد نے سپریم لیڈر کے ہر حکم کی بہ سرو چشم تعمیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

سنہ 1989ء میں بانی اسلامی انقلاب آیت اللہ خمینی کی ہدایت پر قائم کردہ ادارہ "ستاد" دراصل ایک فلاحی تنظیم تھی جس کا مقصد جنگ سے متاثرہ افراد اور خاندانوں کی کفالت کرنا تھا لیکن اس ادارے کے وسائل سے اندازہ ہوتا ہے کہ پورے ایران کی معیشت اس کے ہاتھ میں ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے زیر انتظام ادارے کو آئینی اور قانونی تحفظ دینے کے بعد ایک متوازی اقتصادی ادارہ بنا رکھا ہے، جس کا نیٹ ورک صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ اس کی کئی پروجیکٹ دوسرے ملکوں میں بھی چل رہے ہیں۔

آئینی تحفظ فراہم کرنے کے بعد اب اگر کوئی حکومت اس کی جانچ پڑتال کرنا چاہے بھی تو وہ نہیں کر سکتی ہے کیونکہ سپریم لیڈر ہی اس ادارے کے چوبیس سال سے مختار کل ہیں۔ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے برعکس موجودہ صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے آنے کے بعد "ستاد" کے لیے مزید قانون سازی میں کچھ مشکلات ضرور حائل ہوئی ہیں لیکن یہ اب بھی آیت اللہ علی خامنہ کے زیر کنٹرول سب سے مضبوط اقتصادی ادارہ ہے۔

"ستاد" قبضہ گروپ

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ "ستاد" کے بانی امام خمینی مرحوم نے جن مقاصد کے لیے یہ ادارہ قائم کیا تھا خامنہ ای کے دور میں ان مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر اسے ایک قبضہ گروپ میں تبدیل کر دیا گیا۔ اب "ستاد" کے ذریعے حکومت کسی بھی سیاسی مخالف کی جائیداد ضبط کر کے اس پر قبضہ کرسکتی ہے۔ متاثر فریق کسی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی حکومت اس کی بات سننے کی روادار ہو سکتی ہے۔

پارلیمنٹ نے"ستاد" کو بطور ایک قبضہ گروپ آئینی تحفظ دینے کے لیے ایک قانون منظور کر رکھا ہے۔ دفعہ 49 کے نام سے منظورہ کردہ قانون میں "ستاد" کو کسی بھی شہری کی جائیداد ضبطی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

ایک دوسرے قانون دفعہ 44 کے تحت کسی شخص کی املاک متروکہ کو بھی "ستاد" قبضے میں لینے کا مجاز ہے۔ اس قانون کی رو سے ایک دفعہ کوئی جائیداد وقف کردی جائے تو اس کا مالک اس کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا ہے۔

امریکی ریاست ورجینیا کی "میسون" یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد شاؤل بخش کا کہنا ہے کہ "میرے نزدیک ایران میں ستاد کو آئینی تحفظ دینے کے لیے منظور کردہ دفعہ 44 اور 49 نہایت ڈھیلے ڈھالے قوانین ہیں جن کا اصل مقصد شہری املاک پر قبضہ جمانے کے حیلے بہانے تلاش کرنا ہے۔