.

ٹونی بلئیر کی عراق جنگ میں شمولیت، امریکا نے رپورٹ رکوا دی

برطانوی وزیراعظم اور تحقیقات کرنے والوں کیلیے مشکل پیدا ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق پر حملے کے سلسلے میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلئِر اور صدر بش کے دوران تعاون کی وجوہات پر مبنی رپورٹ کو سامنے لانے سے روک دیا ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو یکطرفہ طور پر ان دستاویزات کو سامنے لانے کا حق نہیں ہے۔

تحقیقتی رپورٹ کو سامنے نہ لا سکنے پر برطانوی وزیر اعظم کو سیاسی دباو کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم دونوں ملک باہمی تعلقات میں خلل نہیں چاہتے ہیں۔

یہ انکشاف برطانیہ اخبار'' دی انڈی پینڈنٹ '' نے کیا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق عراق جنگ کا حصہ بننے سے متعلق معاملے کی تحقیاتی رپورٹ منظر عام پر لانے میں امریکی وائٹ ہاوس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ رکاوٹ ہیں۔ البتہ برطانوی کیبنیٹ آفس نے رپورٹ کو روکے جانے پر تنقید کی ہے۔

اخبار کے مطابق اسے یہ رپورٹ اس سال کے آغاز میں دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ جس میں سرکاری موقف کو چیلنج کیا گیا تھا۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق برطانیہ کا عراق جنگ میں شمولیت کا فیصلہ صدر بش اور ٹونی بلئیر کے درمیان تبادلات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اس لیے اس بارے میں امریکی رویہ بہت مالکانہ انداز کا ہے، امریکا کا موقف ہے کہ برطانیہ اکیلا اس رپورٹ کو سامنے نہیں لا سکتا۔

اس صورت حال میں تحقیقات کرنے والوں کیلیے دوہری مشکل پیدا ہو گئی ہے کہ امریکا اور برطانیہ دونوں نہیں چاہتے کہ دو طرفہ تعلقات میں رخنہ آئے۔