.

شام میں باغیوں سے شدید لڑائی میں عراقی ملیشیا کا کمانڈر ہلاک

خانہ جنگی کا شکار ملک میں تشدد کے مختلف واقعات میں 44 افراد کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی فورسز کے شانہ بشانہ باغی جنگجوؤں سے لڑنے والی عراقی ملیشیا کا کمانڈر ہلاک ہوگیا ہے اور اس کی میت تدفین کے لیے عراق کی نجف گورنری میں پہنچا دی گئی ہے۔

العربیہ ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق شامی جنرل انقلاب کمیشن نے بتایا ہے کہ ابوفضل العباس بریگیڈ کا فیلڈ کمانڈر عباس حسین رضا دمشق کے نواح میں باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی میں مارا گیا ہے اور اس لڑائی میں باغی جنگجوؤں نے متعدد ایرانی فوجیوں اور شامی حکومت کے حامی بیس جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ابو فضل العباس بریگیڈ ان متعدد غیرملکی ملیشیاؤں میں سے ایک ہے جو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے ساتھ مل کر باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہی ہیں۔اس عراقی ملیشیا کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 2012ء سے شام میں جاری خانہ جنگی میں شریک ہے۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ بھی باغی جنگجوؤں کے خلاف اسدی فوج کے شانہ بشانہ لڑرہی ہے اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کی کمک پہنچنے کے بعد ہی شامی فوج نے وسطی صوبہ حمص اور دارالحکومت دمشق کے نواح میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔

لبنانی ملیشیا کے سربراہ حسن نصراللہ نے جمعرات ہی کو اعلان کیا ہے کہ ان کے جنگجو جب تک صدر بشارالاسد کو ان کی ضرورت ہے،شام میں رہیں گے۔ان کے الفاظ میں ''جب تک شام میں جنگ جاری رہتی ہے تو ان کے جنگجو بھی وہاں موجود رہیں گے''۔

درایں اثناء شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ خانہ جنگی کا شکار ملک کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو تشدد کے واقعات میں چوالیس افراد مارے گئے ہیں۔ان میں پانچ بچے ،تین خواتین اور جیش الحر کے چھے جنگجو بھی شامل ہیں۔سرکاری سکیورٹی فورسز نے تین افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت سے ہم کنار کیا ہے۔