.

غیر قانونی تارکین وطن کی دستاویزات درستی کے لیے ایک ماہ کی مہلت

سعودی عرب میں دکانیں کھلی چھوڑ فرار ہونے والوں کا تعاقب جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت لیبر نےغیر قانونی تارکین وطن کے خلاف ایک ہفتے سے جاری کریک ڈاؤن کے بعد چند نئی ہدایات اور تجاویز دی ہیں۔

وزارت لیبر کی جانب سے چار نکاتی ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت میں خلاف قانون مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ تجارتی مراکز کھلے چھوڑ کر فرار ہونے والوں کی تلاش جاری ہے۔ بلا استثنیٰ تمام تجارتی مراکز اور کارخانوں کی تلاشی کا عمل جاری رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جن تجارتی اداروں کی جانب سے اپنے غیر ملکی ملازمین کے کاغذات کی درستی کا عمل آخری مراحل میں ہے اُنہیں ایک ماہ کے اندر تمام ضروری کوائف مہیا کرنےاور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ریاض میں وزارت محنت وافرادی قوت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے غیرملکیوں کی تلاش اور ان کی واپسی کے لیے کارروائی میں میں کوئی لچک نہیں دکھائی جا رہی ہے۔ البتہ فی الحال بڑے شہروں اور دارالحکومت ریاض پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

بڑے شہروں میں موجود غیر ملکیوں کے خلاف سرچ آپریشن میں تمام مشکوک مقامات کی تلاشی لی جائے گی۔ کسی بھی تجارتی مرکز کی باربار تلاشی بھی لی جا سکتی ہے۔ حکام کو معلوم ہوا ہے کہ گرفتاری کے خوف سے غیر قانونی تارکین وطن دکانیں کھلی چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں۔ یہ لوگ تنگ جگہوں اور زیادہ رش والے مقامات میں گم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس ان کا تعاقب کر رہی ہے انہیں جلد پکڑ لیا جائے گا۔ تلاشی کی کسی بھی کارروائی کے لیے تجارتی مراکز کو پیشگی اطلاع نہیں دی جائے گی اور تمام اہم مقامات کی بلا تفریق تلاشی کا عمل جاری رہے گا۔

وزارت لیبر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام سرچ آپریشن کے دوران کسی بھی دکان کے مالک سے وہاں کام کرنے والے ملازمین کی شناخت کے بارے میں جان کاری کے مجاز ہیں۔ غلط معلومات فراہم کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس ضمن میں دکانوں اور تجاری مراکز کے مالکان کواپنے ملازمین کے تمام کوائف اور ماہانہ تنخواہوں کی ادائی کی رسیدیں بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

اس دوران جن غیر ملکیوں کے کاغذات کی درستی آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے انہیں مزید ایک ماہ کی مہلت دی جائے گی تاکہ وہ دیگر مطلوبہ شرائط پوری کرسکیں۔ ایک ماہ کے بعد کی جانے والی جانچ پڑتال کے بعد مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ اس حوالے سے جن سعودی اور غیر ملکیوں کی دانستہ غفلت کی نشاندہی کی گئی تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔