.

مالی میں القاعدہ کے ارکان کا قلع قمع کردیا گیا: فرانس

دو فرانسیسی صحافیوں کے اغوا اور قتل کے بعد فورسز کی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقی ملک مالی کے شمالی علاقے میں فرانسیسی فوج نے القاعدہ کے جنگجوؤں کا قلع قمع کر دیا ہے۔ یہ بات فرانس کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے پیرس میں یورپ 1 ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔

ایڈمرل ایڈورڈ گیلاڈ نے بتایا ہے کہ رات صحرائی علاقے میں ایک خصوصی کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے دوران ہتھیار بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔تاہم انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ القاعدہ کے ارکان کو ہلاک کر دیا گیا ہے یا پھر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ہم نے جمعرات کی رات اڑھائی بجے تسلیط سے دو ڈھائی سو کلومیٹر مغرب میں واقع علاقے میں ایک پک اپ ٹرک کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور صحرا کے وسط میں القاعدہ کے متعدد ارکان کو ''ناکارہ''کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور وہاں سے ہمیں مواد ملا جس سے پیش قدمی میں مدد مل سکتی ہے''۔گیلاڈ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کی پیشگی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔

فرانسیسی فوج نے القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف یہ کارروائی ریڈیو فرانس انٹرنیشنل سے وابستہ دو صحافیوں کے اغوا اور پھر دو نومبر کو قتل کے ردعمل میں کی ہے۔اسلامی مغرب میں القاعدہ نے ان دونوں صحافیوں کے قتل کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

القاعدہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کم سے کم سزا ہے جو فرانسیسیوں اور صدر فرانسو اولاند کو مالی میں نئی صلیبی جنگ شروع کرنے کے ردعمل میں دی گئی ہے۔تاہم ایڈمرل گیلاڈ نے مالی کے طورق باغیوں کے سربراہ موسیٰ اجشرطومان کے ان الزامات کی تردید کی ہے جن میں انھوں نے کہا تھا کہ فرانسیسی فورسز نے سفاکانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے جس کے نتیجے میں دونوں فرانسیسی صحافیوں کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا ہے۔

فرانسیسی فوج کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے اس طرح کام نہیں کر رہی ہیں۔ اگر کہیں کوئی زیادتی ہوتی ہے تو اس کی فوری طور پر سزا دی جائے گی۔

ایڈمرل نے یہ بھی کہا کہ جنوری 2013ء میں فرانسیسی فوج کی مداخلت کے بعد سے مالی میں تشدد کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ فرانس مالی کے پڑوسی ممالک نیجر، برکینافاسو اور الجزائر کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ وہاں القاعدہ کے ارکان کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہیں تو نہیں۔

واضح رہے کہ مالی میں طورق قبائلیوں کی بغاوت اور القاعدہ کے جنگجوؤں کی شورش کو کچلنے کے لیے فرانس نے قریباً تین ہزار فوجی بھیجے تھے۔ القاعدہ کے جنگجوؤں نے مالی کے قریباً تمام شمالی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن گذشتہ مہینوں کی کارروائیوں کے بعد فرانسیسی فوج اور مالی کی سکیورٹی فورسز نے القاعدہ کے جنگجوؤں کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔ اب فرانس مالی سے اپنے فوجی دستوں کے انخلاء کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ جنوری 2014ء تک وہاں سے دو ہزار فوجیوں کو نکال لے گا۔