.

الجزائر:عبدالعزیز بوتفلیقہ چوتھی مدت کے لیے صدارتی امیدوار نامزد

حکمراں جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ کا ماضی کے اعلان کے برعکس فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے علیل صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو ان کی جماعت نیشنل لبریشن فرنٹ (ایف ایل این) نے چوتھی مدت کے لیے باضابطہ طور پر اپنا صدارتی امیدوار نامزد کردیا ہے۔

دارالحکومت الجزائر میں حکمراں جماعت کے ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی کمیٹی نے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو آیندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

76 سالہ الجزائری صدر نے اپریل 2012ء میں 2014ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ ان کی نسل کے لوگوں کا وقت گزر چکا ہے۔ان کا اشارہ فرانس سے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے لیڈروں کی جانب تھا جو 1960ء کی دہائی سے ملک کا نظم ونسق چلاتے آ رہے ہیں۔

لیکن حال ہی میں بوتفلیقہ نے متعدد ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے مبصرین کے بہ قول یہ اشارہ ملتا تھا کہ وہ ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار بننے کی راہ ہموار کررہے ہیں۔ان میں سے ایک اہم قدم الجزائر کے محکمہ سراغرسانی اور سکیورٹی (ڈی آر ایس) میں بڑے پیمانے پر اتھل پتھل ہے۔اس محکمے کو سب سے مضبوط حکومتی ادارہ سمجھا جاتا ہے جو پس پردہ رہ کر ملک کا نظم ونسق چلا رہا ہے۔

ایف ایل این کے چئیرمین عمار سیدانی نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر بوتفلیقہ نے ملک میں ''سول معاشرے'' کے قیام اور ڈی آر ایس کے سیاسی اثرورسوخ کو کم کرنے کا عزم کررکھا ہے۔انھوں نے کہا کہ سراغرسانی کا محکمہ اپنا کردار تو ادا کرتا رہے گا لیکن یہ اب سیاسی جماعتوں ،میڈیا اور عدلیہ سمیت سیاست میں مداخلت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ الجزائر میں سیاسی تبدیلیوں کو یورپ اور امریکا میں بڑے قریب سے دیکھا جاتا ہے۔الجزائر یورپ کو گیس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ملک ہے اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا شراکت دار ہے۔

عبدالعزیز بوتفلیقہ پہلی مرتبہ 1999ء میں الجزائر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔2004ء میں وہ دوسری مرتبہ اور 2009ء میں تیسری مرتبہ صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کے تیسری مدت کے لیے انتخاب سے پہلے آئین میں ترامیم کی گئی تھیں کیونکہ الجزائری آئین کے تحت پہلے کوئی شخصیت تیسری مرتب ملک کا صدر نہیں بن سکتی تھی۔

وہ گذشتہ مہینوں کے دوران پیرس میں زیر علاج رہے ہیں اور ان کی علالت کے پیش نظر یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں کہ وہ شاید چوتھی مرتبہ صدارتی امیدوار نہ بنیں اور سیاست سے دستبردار ہوجائیں لیکن ان کی جماعت نے ان کو چوتھی مرتبہ اپنا صدارتی امیدوارنامزد کرکے مبصرین کو حیران کردیا ہے۔