.

شامی باغیوں کے خلاف"نکاح جہاد" اسکینڈل ایرانی انٹیلی جنس کی سازش

تیونس میں نکاح جہاد کا کوئی تصور نہیں ملا: العربیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جہادی گروپوں کےامورکے ماہر ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ باغیوں کے نکاح جہاد کے بارے میں شوشہ شامی حکومت اور ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی سازش ہے جس کا مقصد اہل سنت والجماعت مسلک کوبدنام اورشام کی تحریک انقلاب کو کمزور کرنا ہے۔

خیال رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف بر سر جنگ باغیوں کے بارے میں دو ماہ قبل یہ اسکینڈل سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تیونس سے سیکڑوں عورتیں شامی باغیوں کی جنسی ضرورت پوری کرنے شام کا رخ کر رہی ہیں۔ اب تک سیکڑوں خواتین باغیوں کے پاس رہتے ہوئے حاملہ ہونے کے بعد تیونس واپس گئی ہیں۔

العربیہ ٹیلی ویژن نے اپنے طور پر تیونس میں اس خبروں کی جان کاری کی کوشش کی۔ نامہ نگار علیا ابراہیم کی قیادت میں ایک ٹیم تیونس بھیجی گئی۔ علیا کا کہنا ہے کہ انہیں تیونس میں کہیں بھی جہاد النکاح کا تصور نہیں ملا ہے اور نہ ہی کہیں سےاس بات کی تصدیق ہو سکی ہے کہ تیونسی خواتین شامی باغیوں کی جنسی ہوس پوری کرنے دمشق اور دوسرے شہروں کا رخ کر رہی ہیں۔

اسی ضمن میں لندن کے "کویلیوم انسٹیٹیوٹ" سے وابستہ جہادی تنظیموں کے امور کے ماہر نعمان بن عثمان نے"العربیہ" ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میرے پاس شامی جہادی تنظیموں اور"جنسی جہاد" کے بارے میں جو حقائق اور اعداد و شمار موجود ہیں وہ ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں کہ باغی غیرملکی عورتوں سے "متعہ"کرتے ہیں۔ میری تحقیقات کے مطابق جہاد النکاح کا شوشہ ایرانی خفیہ اداروں اور شامی حکومت کی پیداوار ہے جس کا مقصد اہل سنت والجماعت مسلک کو بدنام کرنا اوراسے ایک جنسی استحصال کرنے والا گروہ ثابت کرنا ہے۔

نعمان بن عثمان کا کہنا تھا کہ شامی باغیوں میں نکاح جہاد کی جو افواہیں بھی پھیلائی گئی ہیں، ان میں ایرانی انٹیلی جنس کا ہاتھ ہے۔ اس نوعیت کی افواہیں اس لیے چھوڑی گئیں تاکہ باغیوں کی صفوں میں انتشار پھیلے اور وہ آپس میں لڑنا شروع کردیں۔ انہوں نے کہا کہ عارضی نکاح یا "متعہ" کو سلفیوں کی تعلیمات سے جوڑنا قطعا غلط بات ہے۔ سلفیوں کی سخت گیر مذہبی تعلیمات میں ایسے نکاح کی سرے سے کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

مسٹر نعمان نے کہا کہ جن سلفی جہادیوں پر میدان جنگ میں عورتوں سے متعہ کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ مرد و زن کی مخلوط سرگرمیوں کے سخت خلاف ہیں۔ حتیٰ کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو میدان جنگ میں ہوتے ہوئے اپنی بیگمات کی فون کال سننا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ بھلا یہ لوگ تیونسی عورتوں کوکس طرح بہلا پھسلا کرشام میں لائیں گے۔ یہ اعتدال پسند اسلام کوبھی بدنام کرنے کی ایک گھناؤنی سازش معلوم ہوتی ہے۔

العربیہ کی نامہ نگارعلیا ابراہیم کا کہنا ہے کہ جب خبریں آئیں کہ تیونس سے عورتیں شامی باغیوں کی جنسی ضرورت پوری کرنے شام کا سفر کررہی ہیں توہم نے تیونس میں بھی ان اطلاعات کی تصدیق کی کوشش کی۔ تمام ترکوششوں کے باوجود انہیں کہیں سے ایسا کوئی سراغ نہیں ملا ہے جس سے تیونسی لڑکیوں کے شامی محاذ جنگ میں جانے کی افواہوں کی تصدیق کی جا سکے۔

علیا نے بتایا کہ تیونس کے کئی مقامی صحافیوں نے بھی ان لڑکیوں کی تلاش میں مدد کی جنہوں نے میڈیا کو شامی باغیوں کوجنسی سہولت فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ اس ضمن میں "لمیٰ" نامی ایک لڑکی کا نام میڈیا میں آ رہا تھا لیکن تیونس میں کہیں بھی اس نام کی کسی لڑکی کا وجود نہیں ملا ہے۔