.

امریکا سے سکیورٹی معاہدہ،طالبان مذاکرات کا حصہ بنیں:کرزئی

لویہ جرگے کی جائے انعقاد کے نزدیک خودکش بم دھماکا،6 افراد ہلاک ،22 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان صدر حامد کرزئی نے طالبان مزاحمت کاروں پر زوردیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے کے لیے ہونے والے لویہ جرگے کا حصہ بنیں۔

امریکا کے ساتھ مجوزہ سکیورٹی معاہدے پر غور کے لیے جرگہ آیندہ جمعرات کو کابل میں منعقد ہورہا ہے۔اس میں قریباً ڈھائی ہزار قبائلی عمائدین اور سول قیادت کی شرکت متوقع ہے۔اس میں سکیورٹی معاہدے پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا جائے گااور اس کے تحت 2014ء کے بعد افغانستان میں امریکی فوجیوں کی کچھ تعداد کی تعیناتی برقرار رکھنے سے متعلق اجازت دینے یا نہ دینے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

افغان صدر نے ہفتے کے روز کابل میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طالبان کو اس قومی جرگے میں شرکت کی دعوت دی ہے اور کہا کہ ''وہ آگے آئیں اور اس حوالے سے اپنی آواز بلند کریں،اپنے اعتراضات اٹھائیں اور اپنے نقطہ نظر کا دوسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کریں''۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ''اس سکیورٹی معاہدے کے حامی ایسے لوگ ہیں جوکسی جواز کے بغیر اس کی حمایت کررہے ہیں اور اس کے مخالفین بھی وہ لوگ ہیں جو کسی جواز کے بغیر اس کی مخالفت کررہے ہیں''۔

گذشتہ ماہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورۂ کابل کے موقع پر اس مجوزہ معاہدے کے مسودے کو ترتیب دیا گیا تھا لیکن جان کیری کے دورے میں اس پر کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوسکا تھا اور افغان صدر نے کہا تھا کہ ''لویہ جرگہ''معاہدے میں موجود متنازعہ امور طے کرے گا۔

ان میں سے ایک اہم ایشو امریکا کا یہ مطالبہ ہے کہ اس کے فوجیوں کو افغانستان میں عدالتی دائرہ کار سے مستثنیٰ قراردیا جائے اور ان کے خلاف افغان قانون کے تحت کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔

امریکا کی قیادت میں غیر ملکی فوجوں سے مزاحمتی جنگ لڑنے والے طالبان لویہ جرگے کو مسترد کرچکے ہیں۔ انھوں نے اپنے ارکان کو خبردار کیا ہے کہ اگر انھوں نے اس جرگے میں شرکت کی اور افغانستان اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے کی توثیق کی تو انھیں سزا دی جائے گی اور انھیں غدار سمجھا جائے گا۔

سابق وزیراعظم گلبدین حکمت یار کی جماعت حزب اسلامی بھی لویہ جرگے میں شرکت کے لیے وفد بھیجنے سے انکار کرچکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ دراصل ملک پرامریکی قبضے کو جواز مہیا کرنے کی ایک کوشش ہے۔

خودکش بم دھماکا

درایں اثناء افغان دارالحکومت کابل میں ایک خودکش بم دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور بائیس زخمی ہوگئے ہیں۔یہ بم دھماکا اس جگہ کے بالکل قریب ہوا ہے جہاں آیندہ جمعرات کو لویہ جرگہ منعقد ہونے والا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان صدق صدیقی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مرنے والوں میں ایک پولیس اہلکار اور ایک فوجی بھی شامل ہے۔زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔