.

سوڈانی صدر کا مرکزی کابینہ میں ردوبدل کا اعلان

وفاقی اور ریاستی انتظامی اداروں میں جلد تبدیلیاں لائی جائیں گی:عمرالبشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر عمرحسن البشیر نے اپنی کابینہ میں ردوبدل کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ حکمراں جماعت نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) میں بھی اصلاحات کی جائیں گے۔

عمرحسن البشیر نے کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان ہفتے کے روز حکمراں جماعت این سی پی کی شوریٰ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم بہت جلد وفاقی اور ریاستی سطح پر انتظامی اور قانون ساز اداروں میں تبدیلیاں لائیں گے۔

انھوں نے اپنی جماعت این سی پی میں بھی ادارہ جاتی اصلاحات لانے کا عندیہ دیا ہے لیکن تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے کہ جماعت اور خود صدر بشیر شاید مختلف آراء کو قبول کرنے پر آمادہ نہ ہوں۔

سوڈانی صدر نے ستمبر میں اپنی حکومت کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد اصلاحات اور کابینہ میں تبدیلیوں کا یہ اعلان کیا ہے۔ان کی حکومت نے تیل پر دیا جانے والا زرتلافی واپس لے لیا تھا جس کے نیتجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔

اس حکومتی اقدام کے خلاف سوڈانیوں اور خاص طورپر طلبہ نے حکومت کے خلاف کئی روز تک مظاہرے کیے تھے۔صدر بشیر کے تحت سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کی احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت استعمال کی تھی۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سوڈانی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران دوسو سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر خود نیشنل کانگریس پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی تھی اور جماعت کے تیس سرکردہ اصلاح پسند ارکان نے علاحدگی اختیار کرکے اپنی نئی جماعت بنانے کا اعلان کردیا تھا۔اس منحرف گروہ کی قیادت صدر کے سابق مشیر غازی صلاح الدین عتبانی کررہے ہیں لیکن ابھی تک انھوں نے اپنی نئی جماعت کا اعلان نہیں کیا۔

این سی پی کی شوریٰ کونسل اپنے اجلاس میں آج عتبانی اور دو دوسرے لیڈروں کی جماعت کی رکنیت ختم کرنے سے متعلق بھی کوئی فیصلہ کرنے والی ہے۔واضح رہے کہ شوریٰ کونسل چار سو ارکان پر مشتمل ہے اور اس کا ہر چھے ماہ کے بعد اجلاس ہوتا ہے۔جماعت کی جنرل کانگریس کے بعد یہ دوسرا بڑا فیصلہ ساز ادارہ ہے۔جنرل کانگریس کا اجلاس آیندہ سال ہوگا۔