.

''ایرانی جوہری تنازعے سے نمٹنے کا اسرائیلی طریقہ جنگی ہے''

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی کی اخبار نویسوں سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اسرائیل کو باور کرا دیا ہے کہ ایرانی جوہری تنازعے کا بہترین حل سفارتی ہے۔ یہ بات امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی طرف سے ایک ایسے وقت میں کہی گئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم ایران کے ساتھ چھ بڑی طاقتوں کے امکانی معاہدے کو برا معاہدہ قرار دینے کے بعد اس کے خلاف مسلسل ایک مہم شروع کیے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ جنیوا میں مذاکرات کا تیسرا دور شروع کرنے والی ہیں اور برطانیہ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا راستہ بھی کھولنے کی طرف پیش قدمی کی ہے۔

امریکی ترجمان جین پاسکی نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا '' امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تجویز کیا جانے والا راستہ ایران کو پابندیوں سے فتح کیا جائے جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے یہ ایک پر امن راستہ نہیں ہو سکتا ہے۔''

ترجمان نے مزید کہا '' میرے خیال میں ہم کثیر جہتی راستوں سے اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں اس میں سفارتی راستہ بھی شامل ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ سفارتی راستہ ہی ٹھیک راستہ ہے۔''

اس کے مقابلے میں بنجمن نیتن یاہو کا اپنے ٹوئٹر پیغام کے ذریعے کہنا ہے کہ '' ایران کو نہ صرف جوہری بم بنانے کا کا موقع ملے گا بلکہ طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل بنانے کا بھی جن کی مدد سے وہ امریکا اور یورپ کو نشانہ بنا سکے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو سب کچھ حاصل ہو رہا ہے اور اسے اس کے بدلے کچھ دینا نہیں پڑ رہا ہے ۔''

جین پاسکی نے کہا '' میں نے یہ ٹویٹ جمعہ کو دیکھا تھا لیکن اس پر ردعمل نہیں دیا تھا۔''

اسی دوران امریکی ذمہ دار کے موقف کے اس اعادہ پر مشتمل بیان کا ایک اسرائیلی سائٹ نے حوالہ بھی دیا ہے '' امریکا اور اسرائیل دونوں کا ہدف ایران کو جوہری بم بنانے سے روکنا ہے۔''

اسی ماحول میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ '' بلا شبہ ہم نہیں سمجھتے کہ اسرائیل جو راستہ سجھا رہا ہے وہ قابل عمل ہے۔''