لیبیا:طرابلس میں تشدد کے واقعات کے بعد ہنگامی حالت کا نفاذ

امریکی وزیرخارجہ کی طرابلس میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے واقعے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کی حکومت نے دارالحکومت طرابلس میں مسلح جنگجو گروپوں کے درمیان خونریز جھڑپوں اور مظاہرین پر فائرنگ کے بعد اتوار کو اڑتالیس گھنٹے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔

لیبیا کے شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان ہفتے کے روز طرابلس کے نواحی مشرقی علاقے میں جھڑپیں ہوئی تھیں جن میں ایک شخص ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے۔

لیبی وزیر اعظم علی زیدان نے کہا ہے کہ مصراتہ سے تعلق رکھنے والے مسلح جنگجوؤں نے تاجوراء شہر کا محاصرہ کررکھا ہے۔انھوں نے شہریوں پر فائرنگ کرنے والی تمام ملیشیاؤں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلااستثنیٰ دارالحکومت سے نکل جائیں۔

انھوں نے کہا کہ اسلحے کی نمائش اور سابق صدر معمر قذافی کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کے دوران چھینے گئے ہتھیاروں سے حکومت کو ڈرانے دھمکانے کا عمل عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

تشدد کا یہ واقعہ جمعہ کو مسلح گروپوں کے خلاف پُرتشدد احتجاجی مظاہرے کے بعد پیش آیا تھا۔ان پرامن مظاہرین پر مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں پینتالیس افراد ہلاک اور چار سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

وزیراعظم علی زیدان نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔انھوں نے کہا کہ مظاہرہ پُرامن تھا اوروزارت داخلہ نے اس کی اجازت دی تھی لیکن جب مظاہرین غرغور کے علاقے کی جانب بڑھے تو ان پر فائرنگ کردی گئی۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے طرابلس میں تشدد کے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور اس میں لوگوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور ان کے زخمی ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔محکمہ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن میں جاری کردہ ایک بیان میں جان کیری نے کہا کہ ''ہم تشدد کے کسی بھی شکل میں استعمال کی مذمت کرتے ہیں اور تمام فریقوں پر زوردیتے ہیں کہ وہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کریں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں