.

اسرائیل نے "بنک آف چائنا" کے خلاف گواہی دینے سے معذرت کرلی

بنک پر فلسطینی مزاحمت کاروں کو رقوم منتقلی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے امریکا میں انسداد دہشت گردی کے ایک مقدمہ کی سماعت میں سابق انٹیلی افسر کو "بنک آف چائنا" کےخلاف گواہی دینے سے روک دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سے یہ اقدام چین کی جانب سے دباؤ کے بعد اٹھایا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ "بنک آف چائنا" فلسطینی مزاحمت کاروں کو رقوم کی منتقلی کی سہولیات فراہم کرتا رہا ہے۔ اس ضمن میں سنہ 2006 تل ابیب میں مزاحمت کاروں کے حملے کے لیے رقوم بھی اسی بنک سے فلسطینی عسکریت پسندوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کی گئی تھی۔ اس فدائی حملےمیں کم سے کم گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، جن میں ایک 16 سالہ امریکی لڑکا ڈینیل وولٹز بھی مارا گیا تھا۔ مقتول امریکی لڑکے کے ورثاء نے فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی کا ایک مقدمہ دائر کرنے کے ساتھ ساتھ بنک آف چائنا کو بھی فریق قرار دیا تھا۔

تاہم چینی بنک کی جانب سے اسرائیلی اور امریکی الزامات مسترد کر دیے گئے تھے۔ مدعیان کا کہنا تھا کہ وہ ثبوت کے طور پراسرائیلی انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار عوزی چایا کی گواہی پیش کریں گے۔

مقدمہ دائر کرنے والے امریکی خاندان کا کہنا تھا کہ جس اسرائیلی انٹیلی جنس افسر کا کو وہ بہ طور گواہ پیش کر رہے ہیں اس نے سنہ 2005 میں اس امرکی تحقیقات کی تھیں کہ بنک آف چائنا سے مشکوک رقوم ایران اور شامی بنکوں کو منتقل کی گئی تھیں جہاں سے وہ رقوم فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی جہاد تک پہنچائی گئیں۔

حال ہی میں واشنگٹن کی ایک فوجداری عدالت نے وکلاء کواسرائیلی انٹیلی جنس عہدیدار مسٹر چایا کو پچیس نومبرکو ہونے والی سماعت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائیٹرز" کے مطابق اسرائیل کی جانب سے 15 نومبر کوامریکی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں اسرائیلی انٹیلی جنس افسرکو بطور گواہ پیش کرنے سے معذرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ درخواست میںموقف اختیار کیاگیا ہے کہ اس نوعیت کے معاملات دوسرے ملک کی عدالت کے سامنے بیان کرنا قومی سلامتی کے اہم راز افشاء کرنے کےزمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا عدالت اسرائیل کو گواہی سے مستثنیٰ قرار دے۔

ادھر اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز وزیراعظم کے دفترسے جاری ایک بیان میں بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا کوئی شہری امریکی عدالت کے سامنے کسی تیسرے ملک کے خلاف گواہی پیش نہیں کرے گا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے قومی سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ نیز ایسا کرنے سے انسداد دہشت گردی کی عالمی مساعی کوبھی ٹھیس پہنچے گی۔

ایک ماہ قبل جب امریکا میں اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تھی، اس وقت بھی اسرائیل کے عبرانی اخبار"یدیعوت احرونوت" نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے تل ابیب کو گواہی کے لیے بلایا جاسکتا ہے لیکن حکومت اپنے کسی سابق اور حاضرسروس افسر کو گواہی دینے دوسرے ملک جانے کی اجازت نہیں دے گی۔