.

تین اصلاح پسند لیڈر سوڈان کی حکمران جماعت سے فارغ

اصلاح پسندوں کو حکومت پر تنقید کی سزا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی حکمراں جماعت نیشنل کانگریس نے حکومت پر تنقید کی پاداش میں تین سرکردہ رہ نماؤں کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ پارٹی سے نکالے گئے رہ نماؤں نے ستمبر اور اکتوبر میں ہونے والے عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین پر طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے مطالبات پورے کرنے پر زور دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیشنل کانگریس کے مرکزی رہ نما اور صدر عمر حسن البشیر کے معتمد خاص ڈاکٹر نافع علی نافع نے تین اہم رہ نماؤں کی پارٹی رکنیت منسوخ کیے جانے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی منشورکی خلاف ورزی کرنے پرسابق صدارتی مشیرغازی صلاح الدین العتبانی، سابق وزیر برائے کھیل عثمان رزق اور فضل اللہ احمد فضل اللہ کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں نیشنل کانگریس نے پارٹی منشورکی خلاف ورزی کرنے اور مظاہرین کی حمایت کرنے والے رہ نماؤں کے خلاف تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی نے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا منشور کی خلاف ورزی کرنے والے رہ نماؤں کی پارٹی رکنیت ختم کی جائے یا انہیں کوئی دوسری سزا دی جائے؟ گذشتہ روز ہوئے کمیٹی کے اجلاس میں تیس میں سے تین رہ نماؤں کو فارغ کرنے پراتفاق کیا گیا۔

اکتوبر میں خبریں آئی تھیں کہ نیشنل کانگریس کے تیس کے قریب اصلاح پسندرہ نماؤں نے صدرعمرالبشیر سے اختلافات کے بعد پارٹی کو خیرباد کہہ دیا ہے اوراب وہ اپنی نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی تیاری کر رہے ہیں۔

سوڈان میں سیاسی کشیدگی ستمبرمیں اس وقت شروع ہوئی تھی جب پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پردی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کے خلاف ملک گیر پرتشدد احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ اس احتجاج کی حمایت حکمراں جماعت نیشنل کانگریس کےاندر سے بھی کی گئی تھی۔ حکومت نے پولیس کے ذریعے مظاہرے کچل دیے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے حملوں میں کم سے کم 200 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سرکاری رپورٹس میں مرنے والوں کی تعداد 60 اور 70 کے درمیان بتائی گئی تھی۔

خیال رہے کہ سوڈانی حکمراں جماعت نے تین رہ نماؤں کی رکنیت ایک ایسے وقت میں ختم کی جب صدرالبشیر نے کابینہ میں بھی غیر معمولی ردو بدل کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ روز پارٹی کے ایک بڑے اجلاس سے خطاب میں صدر البشیر کا کہنا تھا کہ وہ وفاقی حکومت اور اہم انتظامی عہدوں پرنئے عہدیداروں کی تقرری کی تیاری کر رہے ہیں۔ کابینہ میں کئی نئے وزراء کو بھی شامل کیاجائے گا۔ اجلاس میں نیشنل کانگریس کے 400 ارکان نے شرکت کی تھی۔