.

فرانس ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرے گا:صدر اولاند

جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ برداشت نہیں کریں گے،اسرائیل آمد پر تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے ایران کے خلاف سخت موقف اپنانے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو برداشت نہیں کرے گا۔

فرانسیسی صدر نے یہ بات اتوار کو تل ابیب کے نزدیک بن گوریان ائیرپورٹ پرآمد کے موقع پر اپنے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔وہ اسرائیل کا تین روزہ دورہ کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''جب تک ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہوجاتا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے،ہم اس سے اپنے مطالبات اور پابندیاں جاری رکھیں گے''۔

فرانسو اولاند کے اس سخت موقف کا یقیناً ان کا میزبان ملک اسرائیل خیرمقدم کرے گا جو ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے پر مجوزہ ڈیل کی مخالفت کررہا ہے۔

صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف عاید اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے لیے مجوزہ تجویز کی مذمت کی ہے۔اس تجویز پر ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان 20سے 23 نومبر تک ہونے والے مذاکرات میں دوبارہ غور کیا جائے گا۔اس کے تحت ایران یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہوجاتا ہے تو پھر اس پر عاید عالمی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔

فرانس ان چھے بڑی طاقتوں میں شامل ہے جو ایران کے ساتھ مذاکرات کررہی ہیں۔فرانسیسی صدر نے کہا کہ ''ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو خطرناک سمجھتا ہے اور ایران کے جوہری ہتھیاروں کو خاص طور پراسرائیل اور پھر پورے خطے اور دنیا کے لیے ایک خطرہ خیال کرتا ہے''۔

ہوائی اڈے پر استقبالیہ تقریب میں بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی صدر شمعون پیریز موجود تھے۔فرانسو اولاند نے کہا کہ ''ان کا ملک اسرائیل کی تشویش کو ملحوظ رکھ رہا ہے اور میں ہمیشہ اسرائیل کا دوست رہوں گا''۔