.

ایران کے سب سے بڑے ڈرون کی ''چہرہ نمائی''

2ہزار کلومیٹر کی رینج کا حامل بغیر پائیلٹ طیارہ 30 گھنٹے تک پرواز کرسکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اپنے سب سے بڑے ڈرون کی رونمائی کردی ہے جو تیس گھنٹے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی وزیردفاع حسین دہقان نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ بغیر پائلٹ جاسوس اور لڑاکا طیارہ فطروس دوہزار کلومیٹر (1250میل) تک پرواز اور مارکرسکتا ہے۔یوں یہ ایرانی ڈرون اسرائیل سمیت کم وبیش تمام مشرق وسطیٰ میں مار کرسکے گا۔

ایران کے اس سے پہلے تیار کردہ ڈرون شاہد-129 کی بھی اتنی ہی رینج تھی لیکن وہ صرف 24 گھنٹے تک پروازکرسکتا تھا۔ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے حسین دہقان کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''نیا ڈرون سراغرسانی کے مشن انجام دینے اور فضا سے زمین پر راکٹ فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ اس بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کو وزارت دفاع کے تحت طیارہ سازانڈسٹریز سے وابستہ سائنسدانوں نے ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران اب ڈرونز کی تیاری میں خودکفیل ہوگیا ہے لیکن انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

ایرانی وزیرنے کہا کہ نیا ڈرون ملک کی فوجی صلاحیت میں ایک اہم تزویراتی اضافہ ہے اور اس کو مغرب کی عاید کردہ سخت پابندیوں کے باوجود تیار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''دشمن کی عاید کردہ پابندیاں ہماری دفاعی صنعت کی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہوسکی ہیں''۔

واضح رہے کہ ایران 1980ء کے عشرے سے فوجی خودکفالت کے پروگرام پرعمل پیرا ہے اور وہ گاہے گاہے عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنی کامیابیوں کے اعلانات کرتا رہتا ہے۔اس نے حالیہ برسوں کے دوران جدید جنگی طیارے ،ٹینک ،میزائل ،آبدوزیں اور ڈرونز بنانے کے اعلانات کیے ہیں لیکن ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔