.

لیبیا:انٹیلی جنس کے نائب سربراہ اغوا کے ایک روز بعد رہا

نامعلوم مسلح افراد نے مصطفیٰ نوح کو طرابلس کے ہوائی اڈے سے اغوا کر لیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے محکمہ سراغرسانی کے یرغمال بنائے گئے نائب سربراہ کو اغوا کاروں نے ایک روز بعد رہا کردیا ہے۔

مصطفیٰ النوح کو گذشتہ روز دارالحکومت طرابلس کے ہوائی اڈے کے باہرسے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھا اور وہ انھیں اپنی کار میں بٹھا کر کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے تھے۔لیبیا کی انٹیلی جنس سروسز کے ایک ذریعے نے ان کی رہائی کی تصدیق کردی ہے۔

مصطفیٰ نوح محکمہ سراغرسانی کے جاسوسی یونٹ کے سربراہ ہیں۔اغوا کے واقعہ کے وقت ان کے ساتھ کوئی محافظ نہیں تھا۔ابھی تک کسی گروپ نے ان کے اغوا کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

طرابلس اور دوسرے شہروں میں اس وقت طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور ملک میں حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ گذشتہ ماہ ایک ملیشیا گروپ نے وزیراعظم علی زیدان کو اغوا کر لیا تھا اور انھیں چند روز زیر حراست رکھنے کے بعد رہا کیا تھا۔

اب انٹیلی جنس کے نائب سربراہ کوایسے وقت میں اغوا اور رہا کیا گیا ہے جب مغربی ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں اور ان کے متحارب گروپوں کے درمیان طرابلس میں کشیدگی جاری ہے اور ان کے درمیان جمعہ کے بعد سے خونریز جھڑپوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اورساڑھے چار سو سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

لیبی حکومت نے دارالحکومت طرابلس میں مسلح جنگجو گروپوں کے درمیان خونریزجھڑپوں اورمظاہرین پر فائرنگ کے بعد اتوار کو اڑتالیس گھنٹے کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی تھی۔