.

جوہری تنازعہ، ایران کیساتھ 20 نومبر مذاکرات کا تیسرا دور

جان کیری پرامید نظر نہیں آنا چاہتے، شرکت بھی یقینی نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ایران کے جوہری تنازعے پر چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ اگلے چوبیس گھنٹے میں شروع ہونے والے جنیوا مذاکرات کے بارے میں زیادہ امیدیں وابستہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

امریکی دورے پر آئے ترک وزیر خارجہ احمد سے ملاقات کے بعد جان کیری نے کہا '' ان جنیوا مذاکرات کے احترام کے باوجود مجھے ان سے کوئی خاص توقعات نہیں ہیں ''

ان کا کہنا تھا '' ہماری کوشش ہو گی کہ ایک ابتدائی طرز کا معاہدہ ہو جائے اور اسکے بعد ایران سے توقع رکھی جائے کہ وہ اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک ایسی دستاویز سامنے لے آئے جس پر دنیا اعتبار کر لے کہ ایرانی جوہری پروگرام پرامن ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں جان کیری نے کہا '' میں اس موضوع پر عوامی سطح پر بات کرنے والا نہیں ہوں ، ہم تمام کو ایک دوسرے کی عزت عزیز ہونی چاہیے اس کیلیے ضروری ہے کہ مذاکرات کو مذاکرات کی میز پر رکھا جائے۔''

واضح رہے ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں ایران کے مذاکرات کا 20 نومبر سے تیسرا دور شروع ہونے والا ہے، اس سے پہلے مذاکرات کا دوسرا دور ابتدائی نوعیت کے معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہا تھا۔

مذاکرات کے اس تیسرے مرحلے کا امکانی طور جان کیری حصہ نہیں ہوں گے کہ انہیں کانگریس سے متعلق مصروفیات کیلیے واشنگٹن میں موجود رہنا ہو گا۔ تاہم اس امکان کو انہوں نے رد نہیں کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہنگامی طور پر جنیوا روانہ ہو جائیں گے۔

اسرائیل ایران کے ساتھ چھ بڑی طاقتوں کے ان مذاکرات پر ناخوش ہے اور انہیں مسلسل خبردار کر رہا ہے کہ ایران قابل بھروسہ نہیں ہے۔