.

لیبیا:طرابلس میں تشدد کے واقعات کے بعد فوج تعینات

مسلح جنگجوؤں کو دارالحکومت سے نکال باہر کرنے کے لیے کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بدامنی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر فوج کو تعینات کردیا گیا ہے اور فوجی دستوں نے طیارہ شکن توپوں سے لیس گاڑیوں کے ساتھ مسلح جنگجوؤں کو شہر سے نکال باہر کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔

شہریوں نے دارالحکومت میں مسلح گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔وزیراعظم علی زیدان کی نگرانی میں قائم سکیورٹی ادارے ''جائنٹ آپریشن روم'' کے ترجمان اعصام النعاس نے میڈیا کو بتایا ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے طرابلس کے چارعلاقوں کو خالی کردیا ہے اور وہ اپنے شہر کی جانب چلے گئے ہیں۔

شہر کے علاقے وادی الربیع میں مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔موخرالذکر مسلح گروہ مصراتی جنگجوؤں سے انخلاء سے قبل ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کررہا تھا۔تاہم جھڑپ میں فوری طور پر کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

طرابلس میں گذشتہ چار روز سے مغربی ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں اور ان کے متحارب مقامی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ان کے درمیان جمعہ کے بعد سے خونریز جھڑپوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اورساڑھے چار سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمرقذافی کے عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار کے خاتمے کے بعد دارالحکومت میں تشدد کا یہ بدترین واقعہ ہے۔شہر میں بدامنی کے پیش نظر تمام جامعات کو سوموار سے ایک ہفتے کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ وابستہ ایک محقق حنان صلاح کا کہنا ہے کہ ''ان حالیہ جھڑپوں سے گذشتہ دوسال سے کسی احتساب سے آزاد ملیشیاؤں کی سفاکانہ کارروائیوں اور حکومت کی انھیں کنٹرول کرنے کی عدم صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے''۔

درایں اثناء مشرقی شہر بن غازی میں ایک سینیّر فوجی افسر بم حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔شہر میں سکیورٹی فورسز کے ترجمان کرنل عبداللہ الزیدی نے بتایا ہے کہ ''جائنٹ سکیورٹی روم کے سربراہ اور بن غازی کے فوجی گورنر عبداللہ السعطی کے موٹر کیڈ پر الحادق کے علاقے میں بم حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے قافلے میں شامل ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔واضح رہے کہ لیبیا کے اس دوسرے بڑے شہر میں بھی طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور مسلح جنگجو آئے دن سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔